اندھا دھند کارروائی کو فی الفور روکا جائے، مفتی منیب الرحمان کی حکومت اور فیصلہ ساز اداروں سے اپیل
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اکتوبر2025ء) سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے وفاق، حکومتِ پنجاب اور فیصلہ ساز اداروں سے اپیل کی ہے کہ مدارس و مساجد کو معمول کے مطابق اپنا کام کرنے دیا جائے اور اس اندھا دھند کارروائی کو فی الفور روکا جائے۔ اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم سانحہ مرید کے پر محتاط ترین الفاظ میں اپنا مؤقف دے چکے ہیں، ابتداء میں مخصوص لوگوں کی گرفتاریوں کی حکمت تو سمجھ میں آتی تھی کہ بڑے پیمانے پر رد عمل نہ آئے اور امن عامہ کا مسئلہ پیدا نہ ہو لیکن اب اطلاعات آرہی ہیں کہ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہو رہی ہیں، مساجد و مدارس اہلسنت کو سیل کیا جارہا ہے یا کنٹرول میں لیا جارہا ہے۔
مفتی منیب الرحمان کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی غیر حکیمانہ اور غیر دانشمندانہ ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ اس اندھا دھند کارروائی کو فی الفور روکا جائے، مدارس و مساجد کو معمول کے مطابق اپنا کام کرنے دیا جائے کہیں لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہو تو اس کی نشاندہی کی جائے، بلاوجہ مفروضہ خطرات و خدشات کی پیشگی منصوبہ بندی کے طور پر پورے ملک میں خوف و ہراس اور سراسیمگی پیدا کرنا، مذ ہبی طبقات میں بلا وجہ اشتعال اور نفرت کے اسباب پیدا کرنا کسی بھی صورت درست نہیں ہے، اس سلسلے کو فوراً روکا جائے، گردو پیش کے حالات قومی، ملی اور دینی وحدت کے متقاضی ہیں۔(جاری ہے)
علاوہ ازیں سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ مرید کے میں حکومت نے جس بہیمانہ طریقے سے تحریک لبیک پاکستان کی ریلی سے نمٹا، ہم اس کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، کسی بھی دانشمند اور ذمے دار حکومت کا اپنے عوام کے ساتھ رویہ ایسا نہیں ہوتا، حکومت کے مناسب ہمیشہ ذمے داری، تحمل اور برداشت کا تقاضا کرتے ہیں، ایک مدبر حاکم وقت کو کبھی بھی مغلوب الغضب نہیں ہونا چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کوئی مصدقہ اعداد و شمار میسر نہیں ہیں تاہم جوبھی لوگ شہید ہوئے ان کی مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کرتے ہیں، ہمارا پرزور مطالبہ ہے کہ دونوں طرف کے زخمیوں کا ریاست و حکومت کی طرف سے مناسب علاج کا بندوبست کیا جائے اور جاں بحق ہونے والوں کو دیت ادا کی جائے، پنجاب حکومت نے اگر دانشمندی اور حکمت کا مظاہرہ نہ کیا تو انہیں اس کی قیمت آنے والے انتخابات میں چکانی پڑ سکتی ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے روکا جائے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔