وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے صنم جاوید کیس کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا کو طلب کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
پشاور: نو منتخب وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے عہدہ سنبھالتے ہی پہلا اہم اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی خاتون رہنما صنم جاوید کے کیس کا نوٹس لے لیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق دفترِ پریس سیکریٹری برائے وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایاگیا ہےکہ سہیل آفریدی نے آئی جی خیبرپختونخوا کو اپنے دفتر طلب کرتے ہوئے صنم جاوید سے متعلق کیس کی مکمل تفصیلات فوری طور پر پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
اعلامیے میں مزید کہا کہ وزیرِ اعلیٰ نے ہدایت دی کہ کیس کی جامع رپورٹ کل تک ان کے دفتر میں جمع کرائی جائے تاکہ صورتحال کا واضح انداز میں جائزہ لیا جاسکے۔
ذرائع کے مطابق وزیرِ اعلیٰ نے نہ صرف صنم جاوید کے کیس میں اب تک ہونے والی پیش رفت طلب کی ہے بلکہ پولیس حکام کو حکم دیا ہے کہ اغوا کے کیس میں فوری رپورٹ جمع کرائی جائے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔
واضح رہے کہ صنم جاویدپی ٹی آئی کی سرگرم خاتون رہنما اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی قریبی کارکنوں میں شمار کی جاتی ہیں، وہ مئی 2023 کے واقعات کے بعد سے متعدد مقدمات میں گرفتار ہوچکی ہیں اور ان کے خلاف توڑ پھوڑ، اشتعال انگیزی اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے، پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق صنم جاوید کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: صنم جاوید
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔