آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنےمیں اہم پیشرفت، شوگرملز کی وڈیو اینالیٹکس کےذریعےمانیٹرنگ لازم قرار
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ایک اورشرط پوری کرنے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، شوگر ملز کی ویڈیو اینالیٹکس کے ذریعے مانیٹرنگ لازمی قرار دے دی گئی جب کہ چینی کی پیداوار کی الیکٹرانک نگرانی کا حکم سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔
ایف بی آر نے کہا کہ شوگر ملز بغیر مانیٹرنگ پیداوار نہیں نکال سکیں گی، شوگر ملز کے لیے جدید جی پی یو سسٹم کی تنصیب لازمی قرار دے دی گئی ہے۔
شوگر ملز کو کرشنگ سیزن سے پہلے مانیٹرنگ آلات نصب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جب کہ ایف بی آر نے پیداوار کی نگرانی کے لیے ویڈیو اینالیٹکس سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔
شوگر ملز کی پیداوار کی ویڈیو اینالیٹکس سے ٹریکنگ کی جائے گی، ایف بی آر نے شوگر ملز میں جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا۔
ایف بی آر نے کہا کہ چینی کی پیداوار کی اب ویڈیو اینالیٹکس کے ذریعے مانیٹر ہوگی، ایف بی آر نے سیمنٹ بیگز کی الیکٹرانک مانیٹرنگ کا حکم دے دیا۔
یکم نومبر سے بغیر ٹیکس اسٹیمپ بیگز کی ترسیل ممنوع قرار دی گئی ہے، سیمنٹ شعبے میں ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کردیا گیا۔
تمام بیگز پر یونیک آئی ڈی مارکنگ لازمی قرار دی گئی ہے، ایف بی آر نے سیمنٹ سیکٹر میں شفافیت بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف بی آر نے پیداوار کی شوگر ملز گئی ہے
پڑھیں:
گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا
اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔
گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔
یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی
ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گوگل گوگل پاسپورڈ