لاہور رنگ روڑ پر سفر کرنے والے ہوجائیں خبردار، ہر گاڑی کی ہوگی سخت مانیٹرنگ
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
لاہور:
پنجاب حکومت نے لاہور رنگ روڈ پر سفر کرنے والی گاڑیوں کی جدید نگرانی کے لیے کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس منصوبے کی منظوری صوبائی وزیر تعمیرات و موصلات ملک صہیب احمد بھرتھ نے دے دی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر کو کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو سہیل اشرف، چیئرمین پنجاب رنگ روڈ اتھارٹی فیصل فرید اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران شریک تھے۔
ملک صہیب احمد بھرتھ کے مطابق کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر سے رنگ روڈ سے گزرنے والی روزانہ ایک لاکھ پچاس ہزار گاڑیوں کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔ ٹریفک مینجمنٹ کے ساتھ ساتھ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھی سخت نظر رکھی جائے گی۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ انٹیلیجنٹ ٹرانسپورٹ سسٹم کو کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر سے منسلک کیا جائے گا، جس کے تحت اسپیڈ ریڈار، اے آئی کنٹرول کیمرے، ویٹ اسٹیشن اور دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال کی مانیٹرنگ ممکن ہوگی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر رنگ روڈ اتھارٹی کے ہیڈ آفس میں قائم کیا جائے گا، جہاں 42 بڑی اسکرینز اور 20 تجزیاتی اسکرینز نصب کی جائیں گی۔
ملک صہیب احمد بھرتھ کے مطابق منصوبہ 871 ملین روپے کی لاگت سے چار ماہ میں مکمل کیا جائے گا اور یہ سنٹر رنگ روڈ اتھارٹی کے ایچ آر ڈپارٹمنٹ سے آپریشنل ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر رنگ روڈ
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔