Nawaiwaqt:
2026-06-03@07:58:05 GMT

کیا دانتوں کا گرنا خطرے کی گھنٹی ہے؟ جانیں ماہرین کی رائے!

اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT

کیا دانتوں کا گرنا خطرے کی گھنٹی ہے؟ جانیں ماہرین کی رائے!

ایک نئی اور جامع سائنسی تحقیق نے بڑھاپے میں دانتوں کے تیزی سے جھڑنے کو موت کے خطرے سے جوڑتے ہوئے تاکیدکی ہے کہ منہ کی اچھی صحت بہت اہم ہے۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دانتوں کا جھڑنا دیگر سنگین طبی مسائل کی ایک اہم علامت ہو سکتا ہے۔اس سے پہلے بھی دانتوں کے جھڑنے اور موت کے درمیان تعلق بتایا جا چکا ہے۔ سائنس دانوں نے ماضی میں نتیجہ اخذ کیا تھا کہ جن لوگوں کے دانت کم ہوتے ہیں، ان میں قبل از وقت موت کا خطرہ عام طور پر زیادہ ہوتا ہے، تاہم اب تک یہ معلومات دستیاب نہیں تھیں کہ دانتوں کے جھڑنے کا عمل موت پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔سائنس الرٹ (Science Alert) کی سائنسی ویب گاہ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی دیکھا، اس کے مطابق چین کی سیچوان یونیورسٹی کے محققین کی قیادت میں ایک ٹیم نے 8073 بزرگ افراد میں دانتوں کے جھڑنے کا مطالعہ کیا اور اوسطاً ساڑھے تین سال کے دوران ان کے دانت جھڑنے کی رفتار کا موازنہ اموات کی شرح سے کیا۔محققین نے اپنی شائع شدہ تحقیقی رپورٹ میں لکھا:بزرگ افراد میں دانتوں کے تیزی سے جھڑنے کے ساتھ تمام وجوہات سے ہونے والی اموات کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ گیا، چاہے ابتدائی طور پر دانتوں کی تعداد کچھ بھی ہو۔یہ تعلق اس وقت بھی برقرار رہا جب دیگر عوامل جیسے جنس، عمر، تعلیمی سطح، شراب نوشی کی عادتیں اور باقاعدہ ورزش جن کا صحت اور بیماری پر اثر پڑ سکتا ہے، اس کو بھی مدنظر رکھا گیا۔محققین کا کہنا ہے کہ دانتوں کا تیزی سے جھڑنا خود موت کا سبب نہیں بنتا، بلکہ وہ صحت کے مسائل جو دانتوں کے جھڑنے کا باعث بنتے ہیں، وہی عمر میں کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لیے دانتوں کا جھڑنا عمومی صحت اور موت کے خطرے کا ایک اشارہ سمجھا جا سکتا ہے نہ کہ موت کی براہِ راست وجہ، جیسا کہ بعض لوگ سمجھ سکتے ہیں۔منہ کی اچھی صحت کا ہمیشہ سے عمومی صحت میں بہتری کے ساتھ تعلق رہا ہے، خصوصاً ذہنی صلاحیت میں کمی (یادداشت یا سوچ میں بگاڑ) اور دل کی بیماریوں کے حوالے سے۔دانتوں کے جھڑنے کی شرح اور اموات کے درمیان تعلق کی اصل وجہ ابھی تک واضح نہیں ہے، تاہم محققین کا کہنا ہے کہ سوزش، غذائی عادات، موٹاپا اور ذہنی دباؤ جیسے عوامل دانتوں کے جھڑنے اور بیماریوں کی شرح پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔مثال کے طور پر جب بات خوراک کی ہو تو جن لوگوں کے دانت کم ہوتے ہیں وہ عام طور پر کم متوازن غذا کھاتے ہیں، کیونکہ چبانے میں دشواری ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم کو مطلوبہ غذائیت پوری مقدار میں نہیں مل پاتی، جو صحت کے مسائل کو مزید بڑھا دیتی ہے۔اگرچہ یہ وضاحتیں دانتوں کے جھڑنے اور دیگر معروف اموات کے خطرے والے عوامل کے درمیان تعلق کی نشاندہی کرتی ہیں، لیکن محققین کے مطابق اس تعلق کے درست طریقۂ کار (یعنی اصل وجوہات) ابھی تک واضح نہیں ہیں اور اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔تحقیق کرنے والی ٹیم کا مشورہ ہے کہ منہ اور دانتوں کی صحت کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے۔ دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس باقاعدہ معائنہ کروانا، دن میں دو بار دانت صاف کرنا اور سگریٹ نوشی ترک کرنا یہ تمام عادات دانتوں کی صحت برقرار رکھنے میں مددگار ہیں۔ پچھلی تحقیقات سے بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ عادات بزرگوں کی طویل عمر پر مثبت اثر ڈالتی ہیں۔اسی طرح دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس باقاعدہ چیک اپ کروانے سے دانتوں کی گنتی اور حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور گمشدہ دانتوں کے لیے متبادل حل (جیسے مصنوعی دانت یا ڈینچر) استعمال کیے جا سکتے ہیں۔تحقیق کے مطابق یہ طریقہ بزرگوں کی صحت اور ان میں بیماری یا موت کے خطرے کی نگرانی کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔اسی دوران گمشدہ دانتوں کے متبادل کے لیے جدید طریقوں پر تحقیق میں بھی پیش رفت جاری ہے۔ حالیہ مہینوں میں ماہرین کے مطابق لیبارٹری میں مصنوعی دانت اگانے کے تجربات میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے اور ایسے دواؤں کی طبی آزمائشیں بھی کی جا رہی ہیں، جو گمشدہ دانتوں کی دوبارہ نشوونما ممکن بنا سکتی ہیں۔محققین نے لکھا: یہ نتائج دانتوں کے جھڑنے کی پیش رفت پر نظر رکھنے کی انتہائی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ صحت کے ماہرین اور عام لوگوں دونوں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دانتوں کے تیزی سے جھڑنے سے ممکنہ منفی اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کہ دانتوں دانتوں کا دانتوں کی کے مطابق سکتے ہیں سکتا ہے کے خطرے تیزی سے موت کے

پڑھیں:

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ

متعلقہ مضامین

  • کینیڈا کے کثیر القومی کلچر کو بھارتی ڈانس کلچر کی یلغار کا سامنا، سماجی ماہرین نے خبردار کر دیا
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا