Nawaiwaqt:
2026-07-24@09:20:45 GMT

کیا دانتوں کا گرنا خطرے کی گھنٹی ہے؟ جانیں ماہرین کی رائے!

اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT

کیا دانتوں کا گرنا خطرے کی گھنٹی ہے؟ جانیں ماہرین کی رائے!

ایک نئی اور جامع سائنسی تحقیق نے بڑھاپے میں دانتوں کے تیزی سے جھڑنے کو موت کے خطرے سے جوڑتے ہوئے تاکیدکی ہے کہ منہ کی اچھی صحت بہت اہم ہے۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دانتوں کا جھڑنا دیگر سنگین طبی مسائل کی ایک اہم علامت ہو سکتا ہے۔اس سے پہلے بھی دانتوں کے جھڑنے اور موت کے درمیان تعلق بتایا جا چکا ہے۔ سائنس دانوں نے ماضی میں نتیجہ اخذ کیا تھا کہ جن لوگوں کے دانت کم ہوتے ہیں، ان میں قبل از وقت موت کا خطرہ عام طور پر زیادہ ہوتا ہے، تاہم اب تک یہ معلومات دستیاب نہیں تھیں کہ دانتوں کے جھڑنے کا عمل موت پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔سائنس الرٹ (Science Alert) کی سائنسی ویب گاہ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی دیکھا، اس کے مطابق چین کی سیچوان یونیورسٹی کے محققین کی قیادت میں ایک ٹیم نے 8073 بزرگ افراد میں دانتوں کے جھڑنے کا مطالعہ کیا اور اوسطاً ساڑھے تین سال کے دوران ان کے دانت جھڑنے کی رفتار کا موازنہ اموات کی شرح سے کیا۔محققین نے اپنی شائع شدہ تحقیقی رپورٹ میں لکھا:بزرگ افراد میں دانتوں کے تیزی سے جھڑنے کے ساتھ تمام وجوہات سے ہونے والی اموات کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ گیا، چاہے ابتدائی طور پر دانتوں کی تعداد کچھ بھی ہو۔یہ تعلق اس وقت بھی برقرار رہا جب دیگر عوامل جیسے جنس، عمر، تعلیمی سطح، شراب نوشی کی عادتیں اور باقاعدہ ورزش جن کا صحت اور بیماری پر اثر پڑ سکتا ہے، اس کو بھی مدنظر رکھا گیا۔محققین کا کہنا ہے کہ دانتوں کا تیزی سے جھڑنا خود موت کا سبب نہیں بنتا، بلکہ وہ صحت کے مسائل جو دانتوں کے جھڑنے کا باعث بنتے ہیں، وہی عمر میں کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لیے دانتوں کا جھڑنا عمومی صحت اور موت کے خطرے کا ایک اشارہ سمجھا جا سکتا ہے نہ کہ موت کی براہِ راست وجہ، جیسا کہ بعض لوگ سمجھ سکتے ہیں۔منہ کی اچھی صحت کا ہمیشہ سے عمومی صحت میں بہتری کے ساتھ تعلق رہا ہے، خصوصاً ذہنی صلاحیت میں کمی (یادداشت یا سوچ میں بگاڑ) اور دل کی بیماریوں کے حوالے سے۔دانتوں کے جھڑنے کی شرح اور اموات کے درمیان تعلق کی اصل وجہ ابھی تک واضح نہیں ہے، تاہم محققین کا کہنا ہے کہ سوزش، غذائی عادات، موٹاپا اور ذہنی دباؤ جیسے عوامل دانتوں کے جھڑنے اور بیماریوں کی شرح پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔مثال کے طور پر جب بات خوراک کی ہو تو جن لوگوں کے دانت کم ہوتے ہیں وہ عام طور پر کم متوازن غذا کھاتے ہیں، کیونکہ چبانے میں دشواری ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم کو مطلوبہ غذائیت پوری مقدار میں نہیں مل پاتی، جو صحت کے مسائل کو مزید بڑھا دیتی ہے۔اگرچہ یہ وضاحتیں دانتوں کے جھڑنے اور دیگر معروف اموات کے خطرے والے عوامل کے درمیان تعلق کی نشاندہی کرتی ہیں، لیکن محققین کے مطابق اس تعلق کے درست طریقۂ کار (یعنی اصل وجوہات) ابھی تک واضح نہیں ہیں اور اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔تحقیق کرنے والی ٹیم کا مشورہ ہے کہ منہ اور دانتوں کی صحت کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے۔ دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس باقاعدہ معائنہ کروانا، دن میں دو بار دانت صاف کرنا اور سگریٹ نوشی ترک کرنا یہ تمام عادات دانتوں کی صحت برقرار رکھنے میں مددگار ہیں۔ پچھلی تحقیقات سے بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ عادات بزرگوں کی طویل عمر پر مثبت اثر ڈالتی ہیں۔اسی طرح دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس باقاعدہ چیک اپ کروانے سے دانتوں کی گنتی اور حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور گمشدہ دانتوں کے لیے متبادل حل (جیسے مصنوعی دانت یا ڈینچر) استعمال کیے جا سکتے ہیں۔تحقیق کے مطابق یہ طریقہ بزرگوں کی صحت اور ان میں بیماری یا موت کے خطرے کی نگرانی کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔اسی دوران گمشدہ دانتوں کے متبادل کے لیے جدید طریقوں پر تحقیق میں بھی پیش رفت جاری ہے۔ حالیہ مہینوں میں ماہرین کے مطابق لیبارٹری میں مصنوعی دانت اگانے کے تجربات میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے اور ایسے دواؤں کی طبی آزمائشیں بھی کی جا رہی ہیں، جو گمشدہ دانتوں کی دوبارہ نشوونما ممکن بنا سکتی ہیں۔محققین نے لکھا: یہ نتائج دانتوں کے جھڑنے کی پیش رفت پر نظر رکھنے کی انتہائی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ صحت کے ماہرین اور عام لوگوں دونوں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دانتوں کے تیزی سے جھڑنے سے ممکنہ منفی اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کہ دانتوں دانتوں کا دانتوں کی کے مطابق سکتے ہیں سکتا ہے کے خطرے تیزی سے موت کے

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار