مولانا غلام حسنین وجدانی کی بلاجواز گرفتاری، بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے!
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: اگر ملی و قومی جماعتوں میں دم خم نہیں تو پاکستان میں موجود انسانی حقوق کی تنظیموں اور بہت سے اداروں کے لوگوں کو اس جانب متوجہ کرنا چاہیئے، "شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات۔۔" کے مصداق کچھ مدد ہو جائے۔ ہمارے خیال میں اس مسئلہ پر اعلیٰ شیعہ قائدین کو بلا جھجھک سامنے آکر حکومت پاکستان کے ذریعے ان کی بلا مشروط رہائی کا مطالبہ کرنا چاہیئے۔ اس کیلئے پاکستان میں تعینات سعودی سفیر سے بھی وقت لینا پڑے تو لے کر تشویش پہنچانا چاہیئے، مگر عملی طور پر ایک محاورہ یاد آرہا ہے، جو اس ساری صورتحال کو مزید واضح کر دے گا: "بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے!" تحریر: علی ناصر الحسینی
مولانا غلام حسنین وجدانی دام ظلہ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے، جو قم المقدسہ میں جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے زیر نظر طالبعلم ہیں، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ ملک پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنے بہترین افراد کو تبلیغات کیلئے بھیجتے ہیں، مولانا غلام حسنین وجدانی بھی اسی سلسلے میں گذشتہ تقریباً بارہ سال سے کوئٹہ پاکستان میں تبلیغ دین و مکتب حقہ جعفری کی اشاعت و ارشاد میں مشغول تھے۔ اپریل 2025ء کو مولانا وجدانی عمرہ کی غرض سے کاروان مدینۃ العلم کراچی، جس کے سالار حسن جعفری ہیں، اس گروپ کا ایک دفتر کوئٹہ میں بھی ہے، مولانا وجدانی اس گروپ کیساتھ تشریف لے گئے تھے، سارے گروپ نے روایتی انداز میں اپنے عمرہ مناسک ادا کیے، مگر واپسی پر ایک سانحہ رونماء ہوا، جس نے آٹھ ماہ سے سب کو حیرت و پریشانی کا شکار کر رکھا ہے۔ مولانا غلام حسنین وجدانی جو عمرہ زائرین گروپ کیساتھ تھے، انہیں طائف ایئر پورٹ سے گرفتار کرکے غائب کر دیا گیا۔ سعودی حکومت نے 19 اپریل 2025ء کو عمرہ سے واپسی پر طائف ایئرپورٹ پر بلاجواز گرفتار کرتے کسی کو جرم یا الزام نہیں بتایا۔
ظاہری طور پر سعودیہ جیسے حبس زدہ، ناصبیت کے پروردہ ملک میں اچانک سے مہمانان خدا کیساتھ ایسا ہو جانا بہت پریشان کن تھا۔ ایک بندہ جو تمام مناسک بڑے اہتمام سے ادا کرکے اپنے گھر واپس پہنچنے کا سوچ رہا تھا، اسے روک لینا باقی گروپ کیلئے بھی خاصا پریشان کن تھا، مگر اس وقت کوئی کیا کرسکتا ہے۔ ظاہری بات ہے، بے بسی و لاچارگی ہی تھی۔ کوئی بھی کچھ کرنے کی پوزیشن نہیں رکھتا تھا۔ اس وقت تو بہت دور آج آٹھ ماہ گزر جانے کے باوجود بھی کوئی کچھ نہیں کر پایا ہے۔ اس لیے کہ کون سعودیہ میں جا کر اتنا رسک لے۔ اطلاعات ہیں کہ کافی عرصہ انہیں نامعلوم جیل میں رکھا گیا، ورثاء کو کسی بھی قسم کی اطلاع نہیں تھی، مگر کچھ وقت گزر جانے کے بعد ان کے بارے معلوم ہوا کہ وہ جدہ جیل میں موجود ہیں، جہاں دو ہفتے بعد ان کی گھر ٹیلی فون پر بات بھی ہو جاتی ہے، مگر سعودیہ میں انہیں نا تو وکیل کی سہولت میسر ہے، نا خرچ اخراجات کیلئے کسی نے مدد کی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق سفارت پاکستان سے ایک فرد نے ایک بار ان سے ملاقات کی اور چند سو ریال بھی انہیں خرچ کیلئے دیئے۔ اب تو بس ایسا ہے کہ۔۔ "کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں"
ایسا تصور بھی محال ہے، ایک گھٹن زدہ معاشرہ جہاں عدل و انصاف اور اسلام کے نام پر اسلام کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں، ایک مہمان مسافر زائر کو بلا جواز، بغیر جرم بتائے، آٹھ ماہ سے قید کر رکھا ہے۔ ان کے خاندان، اہل خانہ بہت پریشان ہیں اور در، در کی ٹھوکریں کھا کر مایوسی اور ناامیدی میں غیبی مدد کے امیدوار ہیں۔ علامہ وجدانی ایک باشرف عالم دین اور مبلغ کے طور پر کوئٹہ میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ سعودی حکومت نے انہیں کسی بھی بڑے الزام میں چارج شیٹ نہیں کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ انہیں کچھ ایجنٹس کی غلط رپورٹنگ پر اٹھا لیا گیا ہو، کوئٹہ میں اس سے قبل بھی ان کی مخالفت ہوتی رہی ہے، ایک بھونڈے کیس میں انہیں گرفتار کروایا گیا تھا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک نامور، بہترین، باعمل عالم دین کی یوں تذلیل، گرفتاری اور غیب کیا جانا، ایک قوم، جس کی فعالیت اور نمائندگی پارلیمنٹ تک ہے، کیسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ ایک پاکستانی ہونے کے ناطے، ایک عمرہ زائر ہونے کے حوالے سے ان کے حقوق کی پاسداری لازمی اور یقینی طور پر ہونی چاہیئے تھی، مگر بدقسمتی سے ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اس ساری صورتحال میں نہایت ہی افسوس ناک و تشویشناک پہلو یہ ہے کہ قومی جماعتوں اور تنظیموں کی اپنی اپنی ترجیحات اور پسند و ناپسند کے باعث وہ کسی بھی مرکزی شخصیت یا جماعت کے مصاحبان میں شامل نا ہونے کی وجہ سے ابھی تک کسی بھی سطح پر احتجاج، اعلیٰ حکومتی اہلکاروں کے سامنے مطالبات اور رہائی کیلئے اقدامات میں دکھائی نہیں دیئے۔ یہ ایک افسوس ناک پہلو ہے کہ اگر کوئی شیعہ آپ کی تنظیم یا جماعت سے منسلک نہیں تو آپ اس کیلئے صدائے احتجاج بھی بلند نہیں کرتے۔
ایک اور خدشہ اور امکانی صورتحال یہ ہوسکتی ہے کہ چونکہ ملک کے اہم ترین اداروں، حوزوں اور شخصیات نے حج و عمرہ کاروباری گروپس بنا رکھے ہیں، جو حج و عمرہ کے ذریعے کروڑوں روپے کماتے ہیں، انہیں یہ خدشہ ہوسکتا ہے کہ اگر وہ احتجاج کرتے ہیں، کسی حکومتی شخصیت کو اس بابت خط لکھتے ہیں، سفارت خانے کو احتجاج ای میل بھیجتے ہیں تو وہ نگاہوں میں آجائیں گے اور ان کو حج و عمرہ کیلئے بین بھی کیا جا سکتا ہے یا سعودی حکومت انہیں وجدانی صاحب کی طرح وزٹ پر اسیر بھی کرسکتی ہے۔ یہ ایک خدشہ کے طور عرض کیا ہے، اس لیے کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں کسی جماعت، شخصیت، تنظیم یا ادارے نے اس اہم ترین مسئلہ پر کھل کر کچھ بیان نہیں کیا۔
سوچنے کی بات ہے کہ یہ بے حسی ہے، کمال حکمت و دانائی یا احساس سے عاری رویہ، یہ جو کچھ بھی ہے، کسی بھی طور ایک قوم و ملت کے شایان شان نہیں۔ اس ایشو کو ایک بے گناہ، مظلوم جس کا کوئی پرسان حال و مدد گار نہیں، کے طور پر بھی دیکھنا چاہیئے۔ اگر ملی و قومی جماعتوں میں دم خم نہیں تو پاکستان میں موجود انسانی حقوق کی تنظیموں اور بہت سے اداروں کے لوگوں کو اس جانب متوجہ کرنا چاہیئے، "شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات۔۔" کے مصداق کچھ مدد ہو جائے۔ ہمارے خیال میں اس مسئلہ پر اعلیٰ شیعہ قائدین کو بلا جھجھک سامنے آکر حکومت پاکستان کے ذریعے ان کی بلا مشروط رہائی کا مطالبہ کرنا چاہیئے۔ اس کیلئے پاکستان میں تعینات سعودی سفیر سے بھی وقت لینا پڑے تو لے کر تشویش پہنچانا چاہیئے، مگر عملی طور پر ایک محاورہ یاد آرہا ہے، جو اس ساری صورتحال کو مزید واضح کر دے گا: "بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے!"
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا غلام حسنین وجدانی کرنا چاہیئے پاکستان میں کسی بھی ہیں تو
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم