کراچی: منشیات فروش 14 سالہ بچی کی ضمانت منظور، والدین کو فوری گرفتار کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
سندھ ہائیکورٹ نے منشیات فروش 14 سالہ بچی کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے بچی کے والدین کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا حکم دیدیا۔
ہائی کورٹ میں منشیات فروش 14 سالہ بچی کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی، والدین کی جانب سے کم عمر بچی سعدیہ سے منشیات فروخت کروانے پر عدالت نے اظہار برہمی کیا۔
عدالت نے بچی کے والدین کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ والدین کو گرفتار کرکے منشیات فروشی میں بچی کے استعمال سے متعلق تحقیقات کی جائے۔
عدالت نے بچی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے 5 ہزار روپے کے مچلکے جمع کروانے پر بچی کو پھوپھی کے حوالے کرنے کا حکم دیدیا۔
جسٹس عمر سیال نے ریمارکس میں کہا کہ والدین بچوں کی تربیت، نگرانی اور حفاظت کے ذمہ دار ہیں، اگر بچی کے والدین منشیات فروشی میں ملوث پائے جائیں تو ان کیخلاف سخت کارروائی کی جائے۔ والدین اگر منشیات فروشی میں ملوث پائے جائیں تو بچی چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی کو بھیجی جائے۔
پراسیکیوشن نے مؤقف دیا کہ بچی سعدیہ سے 510 گرام ہیروئن برآمد ہوئی تھی۔ بچی کے مطابق منشیات اسکی والدہ آسیہ عرف ون ٹین نے فروخت کے لئے دی تھی، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بچی کے والد نے دعویٰ کیا ہے کہ بچی کی والدہ انتقال کرچکی ہیں۔
تفتیشی افسر کی تحقیقات کے مطابق بچی کی والدہ حیات ہے۔ پراسیکیوشن نے والدین کی جانب سے بچی کو منشیات فروشی میں شامل کرنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ منشیات فروشی میں بچوں کے استعمال کا بڑھتا رجحان انتہائی تشویشناک ہے۔
جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں خواتین کو منشیات کی ترسیل میں استعمال کیا جاتا تھا۔ منشیات فروش بچوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ بچوں کو محفوظ رکھنے کے لئے مضبوط قوانین، کمیونٹی تعلیم اور بحالی پروگرام کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے کنونشن کے تحت ذمہ داریاں پوری نہ کرنا ریاست کی ناکامی ہے۔
تفتیشی افسر تواتر کے ساتھ بچی کے گھر کا دورہ کرکے خیریت دریافت کرتا رہے۔ بچوں کی منشیات فروشی کے مقدمات میں گرفتاری پر والدین کا سرپرستوں کو لازمی شامل تفتیش کیا جائے۔
عدالت نے فیصلے کی نقول آئی جی سندھ، ایس پی انویسٹی گیشن، متعلقہ مجسٹریٹ اور چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی کو ارسال کرنے کی ہدایت کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: منشیات فروشی میں منشیات فروش کرنے کا حکم والدین کو عدالت نے بچی کی بچی کے
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک