کراچی: کورنگی میں ٹینکر کی ٹکر سے 12 سالہ بچہ جاں بحق، ڈرائیور گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
کراچی کے علاقے کورنگی 100 کوارٹر میں ٹینکر کی ٹکر سے 12 سالہ بچہ جاں بحق ہو گیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق واقعہ کورنگی 100 کوارٹر بنگالی پاڑہ میں پیش آیا، جہاں ٹینکر کی زد میں آ کر جاں بحق ہونے والے بچے کی شناخت فرحان کے نام سے ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے 24 گھنٹے 5 اموات،کراچی میں دندناتے ٹمپرز نے شہریوں کو نشانے پر رکھ لیا
پولیس کے مطابق حادثے کے بعد ٹینکر ڈرائیور فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا تاہم علاقہ مکینوں نے ٹینکر کو روک لیا۔ مشتعل افراد نے ٹینکر کو آگ لگانے کی کوشش بھی کی، جسے پولیس نے موقع پر پہنچ کر ناکام بنایا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈرائیور کو گرفتار کرکے ٹینکر کو تحویل میں لیا جا چکا ہے اور واقعے کی قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: واٹر ٹینکر نے موٹرسائیکل سواروں کو کچل دیا، 2 بچے جاں بحق، 2 زخمی
ریسکیو حکام کے مطابق رواں سال کراچی میں مختلف حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 807 ہو چکی ہے، جن میں سے ہیوی ٹریفک بس، ٹینکر اور ٹرک کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 245 ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
کراچی کورنگی واٹر ٹینکر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کراچی کورنگی واٹر ٹینکر
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔