غیر منقولہ جائیداد کے مالکانہ حقوق کے تحفظ کا آرڈیننس جاری
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
آرڈیننس کے تحت کوئی بھی کمپنی، سوسائٹی، یا ایسوسی ایشن اپنے ڈائیریکٹر، سیکرٹری یا منیجر کی مدد سے غیر منقولہ جائیداد کی غیر قانونی فروخت میں ملوث ہوتی ہے، مجوزہ عہدیداران اس جرم کے مرتکب تصور کئے جائیں گے۔ آرڈینس کے تحت جرم کی صورت میں غیر منقولہ جائیداد کے مالکان اس شہر کے ڈپٹی کمشنر کے شکایت درج کر سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پنجاب حکومت نے غیرمنقولہ جائیداد کے مالکانہ حقوق کے تحفظ کا آرڈیننس جاری کر دیا۔ آرڈینس غیرمنقولہ جائیداد کے مالکانہ حقوق کے تحفظ کیلئے جاری کیا گیا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے بھیجے گئے۔ آرڈیننس پر گورنر پنجاب نے دستخط کر دیئے۔ آرڈیننس کے تحت جو کوئی بھی خود یا کسی دوسرے کی مدد کسی غیر منقولہ جائیداد پر غیر قانونی طریقے قبضہ کرتا اس کو دس سال کی سزا ہو سکتی ہے، آرڈیننس کے تحت کم از کم سزا پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال ہو سکتی ہے۔
آرڈینس کے تحت غیر قانونی طریقے سے حاصل غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت، الاٹمنٹ، اشتہار بازی، یا کسی کو قبضے پر اُکسانے اور اس پر عمارت کھڑی کرنے پر کم از کم سزا ایک سے تین سال اور جرمانہ کم از کم دس لاکھ ہو گا۔
آرڈیننس کے تحت کوئی بھی کمپنی، سوسائٹی، یا ایسوسی ایشن اپنے ڈائیریکٹر، سیکرٹری یا منیجر کی مدد سے غیر منقولہ جائیداد کی غیر قانونی فروخت میں ملوث ہوتی ہے، مجوزہ عہدیداران اس جرم کے مرتکب تصور کئے جائیں گے۔ آرڈینس کے تحت جرم کی صورت میں غیر منقولہ جائیداد کے مالکان اس شہر کے ڈپٹی کمشنر کے شکایت درج کر سکتے ہیں، ہر ضلع میں شکایت ازالہ کمیٹی ہوگی جو شکایات کا فیصلہ کرے گی۔ شکایت ازالہ کمیٹی میں ڈی سی، ڈی پی او اور ایڈیشنل ڈی سی ریونیو اور متعلقہ اے سے اور ڈی ایس پی شامل ہوں گے، آرڈینس کے تحت کمیٹی کو سول کورٹ کے اختیارات حاصل ہوں گے، کمیٹی ایسے کیسز کا فیصلہ نوے دن میں کرے گی، آرڈیننس کے تحت کمیٹی اپنے فیصلے توثیق کیلئے ٹربیونل کو بھیجے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غیر منقولہ جائیداد منقولہ جائیداد کے آرڈیننس کے تحت آرڈینس کے تحت
پڑھیں:
فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا
فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔
امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔
فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام
فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کالا ہرن کیس کیا تھا؟سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔
اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔
یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول
سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن