سندھ حکومت کراچی کی عوام سے زیادتیاں بند کرے، بلال سلیم قادری
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
اپنے بیان میں سیکرٹری جنرل پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ سندھ حکومت اور شہری انتظامیہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان پر بوجھ ڈال رہی ہے، حکومت وقت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات کرنے چاہئیں، نہ کہ نئے نئے طریقوں سے ان کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل صاحبزادہ علامہ بلال سلیم قادری نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کراچی کی عوام کے ساتھ مسلسل زیادتیاں کر رہی ہے، شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، پینے کا پانی، صفائی ستھرائی، سڑکوں کی مرمت اور نکاسی آب کے مسائل نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، سندھ حکومت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے بجائے کراچی کے عوام کے مسائل حل کرے، حکمرانوں نے شہرِ قائد کو نظر انداز کرکے عوام کے صبر کا امتحان لیا ہے۔
بلال سلیم قادری نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے، اگر کراچی کو تباہ کیا گیا تو پورے ملک کی معیشت متاثر ہوگی، حکومت وقت ہوش کے ناخن لے اور کراچی کے عوام سے زیادتیاں بند کرے۔ بلال سلیم قادری کا کہنا تھا کہ کراچی کے شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے، کبھی بھاری ٹیکسوں کے نام پر تو کبھی ای چالان کے ذریعے عوام پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور شہری انتظامیہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان پر بوجھ ڈال رہی ہے، حکومت وقت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات کرنے چاہئیں، نہ کہ نئے نئے طریقوں سے ان کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلال سلیم قادری سندھ حکومت کے مسائل عوام کے نے کہا
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ