کراچی؛ مختلف علاقوں میں مبینہ پولیس مقابلوں کے دوران 4 ملزمان زخمی حالت میں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
کراچی:
مختلف علاقوں میں پولیس اور اسٹریٹ کرمنلز کے درمیان مقابلوں کے دوران 4 ملزمان زخمی حالت میں گرفتار کر لیے گئے۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، موبائل فونز، نقدی اور چھینی گئی موٹرسائیکل برآمد کرلی۔
تفصیلات کے مطابق ضلع ملیر ابراہیم حیدری کے علاقے بےنظیر چوک کے قریب گشت پر مامور پولیس پارٹی پر مسلح ملزمان نے فائرنگ کردی۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک ملزم علی حسن عرف علی شیدی زخمی حالت میں گرفتار ہوا جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
ترجمان ضلع ملیر پولیس کے مطابق ملزم کے قبضے سے ایک پستول بمعہ ایمونیشن، موبائل فونز اور نقدی برآمد ہوئی۔ گرفتار ملزم کو طبی امداد کے لیے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ اسلحہ فرانزک کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے اور فرار ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
دوسری جانب ڈسٹرکٹ ساؤتھ پولیس کا ڈیفنس کے علاقے کورنگی کریک روڈ پر پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، مبینہ مقابلے کے نتیجے میں ملزم نبیل احمد ولد شیر محمد زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا جبکہ اس کا ساتھی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موقع سے فرار ہوگیا، ملزم کے قبضے سے ایک 30 بور پستول گولیاں، میگزین اور موبائل فون برآمد ہوئے۔
اسی طرح ڈسٹرکٹ سینٹرل کے علاقے تیموریہ میں پولیس نے چیکنگ کے دوران موٹرسائیکل سوار دو مشتبہ افراد کو رکنے کا اشارہ کیا، جنہوں نے فرار ہونے کی کوشش کے دوران پولیس پر فائرنگ کردی، پولیس کی جوابی فائرنگ کے دوران دونوں ملزمان زخمی حالت میں گرفتار کرلیے گئے۔
ملزموں کو چھیپا ایمبولنس کے زریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ملزمان کی شناخت عمران قریشی ولد یعقوب قریشی اور محمد مبارک ولد محمد طفیل کے ناموں سے کرلی گئی۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے ناجائز اسلحہ، پانچ موبائل فونز اور تھانہ جمشید کوارٹر کی حدود سے چھینی گئی موٹرسائیکل برآمد ہوئی۔
گلشن اقبال اردو یونیورسٹی طعیبہ مسجد کے قریب پولیس مقابلے کے دوران ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔ زخمی ملزم کو چھیپا ایمبولنس کے ذریعے سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت محمد عدنان ولد ولایت حسین کے نام سے ہوئی ہے، پولیس حکام کے مطابق زخمی ملزم کا کریمنل ریکارڈ چیک کیا جارہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زخمی حالت میں گرفتار کے قبضے سے کے مطابق کے دوران
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔