بالاکوٹ ہائیڈرو پاور منصوبے نے دریا کی بندش مکمل کرلی ، مرکزی تعمیراتی مرحلے میں داخل
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
بالاکوٹ ہائیڈرو پاور منصوبے نے ایک اہم سنگِ میل عبور کرلیا ہے، جہاں منصوبے کے ڈیم نے دریائے کنہار کا بہاؤ کامیابی سے موڑ کر بندش مکمل کر لی۔ اس کامیابی کے ساتھ منصوبہ اب اپنے مرکزی تعمیراتی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے ملک میں نئے ڈیم بنانے کی حکمت عملی طے کرلی، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
سرکاری خبررساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق چائنا گیزوبا گروپ کے نمائندے ماؤ ہوئی گانگ نے کہا کہ یہ منصوبہ خیبر پختونخوا انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) اور چائنا گیزوبا گروپ کمپنی لمیٹڈ (سی جی جی سی ) کے اشتراک سے تعمیر کیا جارہا ہے، جو صوبے میں زیرِ تکمیل سب سے بڑا پن بجلی منصوبہ ہے۔
300 میگاواٹ صلاحیت کے حامل بالاکوٹ ہائیڈرو پاور اسٹیشن کی تکمیل سے صوبے میں توانائی کے شعبے میں انقلاب آئے گا۔منصوبے کے تحت 49 میٹر بلند ڈیم، زیرِ زمین پاور ہاؤس، تین عدد 100 میگاواٹ کے فرانسس ٹربائن جنریٹر یونٹس اور 9.
منصوبہ مکمل ہونے پر سالانہ تقریباً 1.154 ارب یونٹس (کلو واٹ آور ) بجلی پیدا کرے گا، جو 18 لاکھ سے زائد افراد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہوگی اور صوبائی معیشت کو سالانہ 20 ارب روپے سے زائد آمدنی فراہم کرے گا۔چائنا گیزوبا گروپ کے نمائندے ماؤ ہوئی گانگ نے اس موقع پر کہا کہ بالاکوٹ ہائیڈرو پاور منصوبہ چین اور پاکستان کی دوستی کی ایک روشن مثال ہے۔
یہ منصوبہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی ) کے تحت دونوں ممالک کے پائیدار تعاون کا ثبوت ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ منصوبے سے اب تک 2000 سے زائد مقامی روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں، جبکہ توانائی، تعمیراتی مواد اور خدمات کے شعبوں میں بھی خاطر خواہ ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے کنہار کا بہاؤ رک گیا، مہانڈری بازار ڈوبنے کا خطرہ؟
پختونخوا انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (پیہڈو ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور پروجیکٹ ڈائریکٹر حبیب اللہ شاہ نے کہاکہ چین ہمیشہ پاکستان کا قابلِ اعتماد اور آزمودہ دوست رہا ہے۔ بالاکوٹ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور دیرپا اشتراکِ عمل کی علامت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ منصوبہ صوبائی حکومت کی نگرانی میں مکمل کیا جا رہا ہے، جبکہ مالی معاونت ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی ) اور ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی ) فراہم کر رہے ہیں۔یہ دریائے کنہار پر سی جی جی سی کی دوسری کامیاب دریا بندش ہے۔ اس سے قبل اسی کمپنی نے ایس کے ہائیڈرو پاور اسٹیشن تعمیر کیا تھا، جو گزشتہ سال سے پاکستان کو سالانہ 2.8 ارب یونٹس صاف توانائی فراہم کررہا ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران چائنا گیزوبا گروپ نے پاکستان میں نیلم-جہلم، مہمند، کروٹ اور داسو ہائیڈرو پاور اسٹیشنز کے علاوہ ای35 ہائی وے اور ایم4 موٹروے جیسے بڑے منصوبے مکمل کیے ہیں، جو چین پاکستان تعاون اور پائیدار ترقی کی مضبوط بنیادوں کو مزید مستحکم کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عطاآباد جھیل بنے 15 سال مکمل، متاثرین اب بھی پوری طرح آباد نہ ہوسکے
سی جی جی سی (سی جی جی سی ) کے نمائندے ماؤ ہوئی گانگ نے کہا کہ بالاکوٹ ہائیڈرو پاور منصوبہ چین-پاکستان تعاون کی ایک نمایاں مثال اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی ) کا فلیگ شپ منصوبہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ “بالاکوٹ ہائیڈرو پاور منصوبہ چین اور پاکستان کی دوستی کی علامت ہے، منصوبے نے مقامی سطح پر 2000 سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں اور توانائی، تعمیراتی مواد اور خدمات کے شعبوں کو فروغ دیا ہے۔پختونخوا انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور پروجیکٹ ڈائریکٹر حبیب اللہ شاہ نے سی جی جی سی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین ہمیشہ پاکستان کا قابلِ اعتماد اور آزمودہ دوست رہا ہے۔ ہمارا اشتراک باہمی اعتماد اور دیرپا تعاون کی مثال ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بالاکوٹ ہائیڈرو پاور منصوبہ پاکستان چین خیبرپختونخوا دریائے کنہار ڈیم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان چین خیبرپختونخوا دریائے کنہار ڈیم چائنا گیزوبا گروپ دریائے کنہار اعتماد اور کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘