’وائٹ کرولا گینگ‘ کا بدنام رکن محمد علی حاجانو گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) شہر میں ایک دہائی قبل بدنام زمانہ ’وائٹ کرولا گینگ سے تعلق رکھنے والا محمد علی حاجانو ایک بار پھر قانون کی گرفت میں آ گیا۔ ملزم نے چند روز قبل حبیب یونیورسٹی کے باہر ایک خاتون سے اسلحے کے زور پر زیورات، پرس اور گھڑی چھین لی، تاہم بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاتون نے خود ملزم کا پیچھا کیا اور اپنی گاڑی سے اس کی موٹر سائیکل کو ٹکر مار کر اسے قابو کرلیا۔ واردات 25 اکتوبر کی رات تقریباً 11 بج کر 20 منٹ پر پیش آئی، جب متاثرہ خاتون اپنے شوہر کے ساتھ یونیورسٹی میں ایک تقریب کے بعد کار میں بیٹھی کسی کا انتظار کر رہی تھیں۔ اس دوران ایک موٹر سائیکل سوار ملزم نے آ کر شیشہ نیچے کرنے کو کہا، انکار پر اس نے پستول دکھا کر دھمکایا اور زبردستی پرس، گھڑی اور زیورات چھین کر فرار ہوگیا۔متاثرہ خاتون نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کی اور بھاگتے ہوئے ملزم کی موٹر سائیکل کو ٹکر ماری، جس سے وہ گر گیا۔ شور سن کر موقع پر جمع ہونے والے شہریوں نے ملزم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزم محمد علی حاجانو ماضی میں ’وائٹ کرولا گینگ‘ کا سرگرم رکن رہا ہے جو 2008 میں ڈیفنس اور کلفٹن کے گھروں میں ڈکیتیوں اور خواتین پر حملوں کے باعث بدنام ہوا تھا۔ اسے 2015 میں سیشن کورٹ نے 15 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ پولیس نے تصدیق کی کہ حاجانو کو ماضی میں گرفتار اور سزا دی جا چکی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ ضمانت پر رہا ہوا، بری ہوا یا سزا مکمل ہونے کے بعد باہر آیا۔حالیہ گرفتاری کے دوران ملزم کے قبضے سے ایک لائسنس یافتہ 9 ایم ایم پستول بھی برآمد ہوا، جس پر شاہراہِ فیصل پولیس نے اس کے خلاف سندھ آرمز ایکٹ کے تحت ’ہتھیار کے غلط استعمال کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ ماضی کے مقدمات اور ملزم کی رہائی سے متعلق ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔