زائرین کے لیے خوشخبری ؛ اسلام آباد تہران استنبول ٹرین سروس بحال
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
سٹی 42: ریلویز ہیڈکوارٹرز لاہور میں وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا 31دسمبرکو اسلام آباد تہران استنبول ٹرین سروس بحال کریں گے۔
حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ ریکوڈک منصوبہ کیلئے 400کلومیٹر تک نیا ٹریک بنائیں گے ۔روہڑی کراچی پانچ سو کلومیٹر ورلڈ ایشن بینک سے دو بلین ڈالر کا معاہدہ کےلئے بات چیت جاری ہے۔
جولائی 2026ء تک روہڑی کراچی ٹریک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ٹریک کی بہتری کےلیے بات چیت چل رہی ہے ایم ایل ٹو پر بھی معاملات پر غور و خوض ہو رہا ہے۔
کراچی اسٹیشن لاہور سے کئی گنا بڑھ گیا ہے۔شالیمار ایکسپریس کے افتتاح کیلئے سات نومبر کا وزیر اعظم سے وقت مانگ رہے ہیں۔عوام رحمان بابا ایکسپریس کو اپ گریڈ کریں گے۔
پیسنجر سے پیسے کماکر فریٹ پر لگا رہے ہیں دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔
ہنڈائی ٹکسن ہائبرڈ بغیر سود کے آسان اقساط میں حاصل کریں
واضح رہے اس سے قبل وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری نے ایران کے وزیر روڈز اینڈ اربن ڈیولپمنٹ فرزانہ صادق کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران یہ تجویز پیش کی جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران میں ایندھن کی کم قیمتیں کرایوں کو سستا رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں اور دو طرفہ رابطے کو فروغ دے سکتی ہیں۔جنید انور چوہدری نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اس طرح کی سروس چلانے میں دلچسپی رکھنے والے کسی بھی ایرانی کاروباری شخصیت یا کمپنی کا خیرمقدم کرے گا۔
برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت میں حیران کن کمی
وفاقی وزیر نے کہا کہ ایسی فیری سروس نہ صرف دو طرفہ تجارت کو فروغ دے گی بلکہ ایران اور عراق جانے والے زائرین کے لیے سفر کا ایک کم لاگت ذریعہ بھی فراہم کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سال 2025 میں تقریباً 60 سے 70 ہزار پاکستانی زائرین نے فضائی راستے سے اربعین میں شرکت کی، فیری سروس ممکنہ طور پر ان اعدادوشمار کو کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔
دوسری طرف بلوچستان کے شہر میں کوئٹہ سے ایران جانے والی بسوں پر شدت پسندوں کے حملوں سے زائرین کی زندگیوں کو خطرہ تھا ۔ زائرین کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے بس سروس معطل کی تھی ۔ جس کے بعد چند گروہ احتجاج کررہے تھے ۔حکومت نے متبادل راستہ اور محفوظ راستہ فراہم کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔
بالی ووڈاداکار کا موت سے پہلے کیا گیا ٹوئٹ وائرل
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔