وزیراعظم کا ملک بھر کے گھریلو صارفین کیلئے گیس کنیکشنز کھولنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
وزیراعظم کا ملک بھر کے گھریلو صارفین کیلئے گیس کنیکشنز کھولنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 26 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں گھریلو گیس کنکشن کھولنے کا اعلان کردیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آر ایل این جی سے گھریلو صارفین کو معیاری ایندھن کی فراہمی ممکن ہوگی، ملک بھر میں لاکھوں صارفین گیس کنکشنز کے منتظر ہیں، ہماری حکومت نے ملک میں بیس بیس گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ بھی حل کیا تھا، پاکستان کی ترقی کیلئے دن رات محنت کرنی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس کے گھریلو کنکشنز کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزرا ، ارکان اسمبلی ، ایس این جی پی ایل و اعلی سرکاری حکام بھی موجود تھے۔وزیر اعظم نے کہا کہ گیس کنکشنز کی فراہمی بہت بڑا عوامی مطالبہ تھا۔ 2022 میں حکومت سنبھالی تو گیس کنکشنز کی فراہمی کا بہت دبا وتھا، سپلائی کم، مانگ زیادہ تھی، لاکھوں لوگ گیس کنکشنز کی فراہمی کیلئے انتظار میں تھے، جہاں پائپ لائنز بچھ چکی تھیں وہاں بھی گیس فراہمی ممکن نا تھی کیونکہ گیس موجود ہی نہیں تھی، ہم نے اس مسئلے پر توجہ دی۔آج گھریلو صارفین کیلئے معیاری ایندھن دستیاب ہوگیا ہے، یہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے عوامی خدمت کے اقدامات کا ہی تسلسل ہے ، 2013 میں تیسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد انہوں نے ملک میں اٹھارہ اٹھارہ بیس بیس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کیا تھا۔آج گیس کا مسئلہ بھی مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم سمیت اتحادی جماعتوں پر مشتمل پی ڈی ایم کی حکومت نے حل کیا ہے جس پر میں سب کو مبارک باد دیتا ہوں۔انہوں نے کہا پاکستان کی ترقی کیلئے ہمیں دن رات محنت کرنی ہے اور اپنے ملک کو آگے لیکر جانا ہے۔
وزیر اعظم نے قبل ازیں تختی کی نقاب کشائی کرکے آر ایل این جی کنکشنز کی فراہمی کا افتتاح کیا۔وفاقی وزیر توانائی و پٹرولیم ڈویژن علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر حکومت نے قطر و دیگر ممالک سے ملکر توانائی کا مسئلہ حل کرنے پر توجہ دی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جاسکے۔ 2026 تک مقامی ایندھن کے کنوئیں بھی چالو کریں گے اور عوام کو سستا اور معیاری ایندھن فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اب گھروں میں گیس سلنڈرز نہیں رکھنا پڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک سال میں ایس این جی پی ایل نے 29ارب منافع کمایا، لائن لاسز کم ہوکر 4.
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمتنازع علاقے سرکریک میں بھارت کا جنگی مشقوں کا اعلان، پاکستان کا سخت ردعمل متنازع علاقے سرکریک میں بھارت کا جنگی مشقوں کا اعلان، پاکستان کا سخت ردعمل وزیراعظم نے آزاد کشمیر میں حکومت سازی اور سیاسی معاملات کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی سینی ٹیشن ڈائریکٹوریٹ کی نجکاری پرملازمین کے حقوق کا دفاع کرینگے،چوہدری محمد یسین بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے ڈیم میں دریا کے بہاؤ کو روکنے کا کام کامیابی سے مکمل دم نکل گیا تو پولیس والوں نے لاش پر بھی ڈنڈے مارے ، پولیس حراست میں نوجوان کے قتل میں نئے انکشافات شہید صحافی ارشد شریف کی والدہ انتقال کر گئیںCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: گیس کنکشنز کی فراہمی گھریلو صارفین نے کہا کہ کا اعلان کا مسئلہ انہوں نے ملک بھر نے ملک
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔