کشمیری عوام حق خودارادیت ملنے تک اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے، بلال صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
ذرائع کے مطابق بلال صدیقی نے سینٹرل جیل سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر پر کئی دہائیوں سے طاقت، جبر اور دھوکے سے حکومت کی جا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما بلال احمد صدیقی نے کہا ہے کہ بھارت روز اول سے کشمیری عوام کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کر رہا ہے جبکہ وہ بھی آزادی، مساویانہ سلوک اور احترام کا حق رکھتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بلال صدیقی نے سینٹرل جیل سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر پر کئی دہائیوں سے طاقت، جبر اور دھوکے سے حکومت کی جا رہی ہے جبکہ عالمی برادری خصوصا اقوام متحدہ کی طرف سے کئے گئے وعدے ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو ان کے سیاسی مستقبل کا تعین کرنے کے حق کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن ان کی قومی شناخت اور امنگوں کو منظم طریقے سے کچلا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے دفعہ370 اور 35A کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر کے لوگوں کی شہری حیثیت کم کر کے انہیں براہ راست اپنے کنٹرول میں رکھا ہے، ان پر فوجی محاصرہ مسلط کر دیا ہے، اظہار رائے اور اجتماع کی آزادی پر پابندی جبکہ خطے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ بلال صدیقی نے کہا کہ حقیقی شہریت کی بنیاد حقوق، انصاف اور مساوات پر ہوتی ہے اور کشمیریوں کو ان سب سے محروم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کو یہ اخلاقی یا قانونی اختیار نہیں ہے کہ وہ کشمیری عوام کی تاریخ، شناخت یا سیاسی امنگوں کو مٹا سکے۔ انہوں نے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کے بین الاقوامی علمبرداروں اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ ہونے والی سنگین ناانصافیوں کو تسلیم کریں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ اپنی پرامن جدوجہد اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک انہیں اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خودارادیت نہیں دیا جاتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ بلال صدیقی
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔