ماتلی: اسسٹنٹ کمشنر ماتلی کا سیف سٹیزن پروجیکٹ کا تفصیلی دورہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماتلی (نمائندہ جسارت)اسسٹنٹ کمشنر ماتلی نے ڈی ایس پی آفس ماتلی میں قائم “سیف سٹیز ماتلی” پروجیکٹ کا تفصیلی دورہ کیا۔ یہ منصوبہ مکمل طور پر مقامی کمیونٹی کے بھرپور تعاون سے پایہ تکمیل کو پہنچا ہے، جس کا مقصد شہر میں امن و امان کو مستحکم بنانا اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔دورے کے موقع پر ڈی ایس پی فرید جٹ نے اسسٹنٹ کمشنر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ “سیف سٹیز ماتلی” کے تحت شہر کے اہم مقامات، بازاروں، داخلی و خارجی راستوں، سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں کے اطراف جدید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں، جن کی مانیٹرنگ پولیس کنٹرول روم سے چوبیس گھنٹے کی جاتی ہے۔ڈی ایس پی فرید جٹ نے کہا کہ اس جدید مانیٹرنگ نظام کی بدولت ماتلی میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ پولیس کو مختلف کارروائیوں میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ عوامی تعاون کا مظہر ہے، جس میں شہریوں، تاجروں اور سماجی تنظیموں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ماتلی نے کہا کہ “سیف سٹیز ماتلی” جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے امن و امان برقرار رکھنے کا ایک کامیاب ماڈل ہے، جسے دیگر علاقوں میں بھی فروغ دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس منصوبے کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اگلے مرحلے میں ماتلی کے مضافاتی علاقوں اور مرکزی شاہراہوں پر بھی جدید کیمرے نصب کیے جائیں گے تاکہ نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ماتلی میں امن و امان کی صورتحال اطمینان بخش ہے اور پولیس و انتظامیہ قریبی رابطے کے ساتھ شہریوں کے تحفظ اور جرائم کے خاتمے کے لیے دن رات سرگرم عمل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔