پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی قیادت اجلاس میں موجود، وزارت عظمیٰ کیلئے چار ناموں پر غورکیا گیا، آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد آئندہ 24 گھنٹے میں پیش کیے جانے کا امکان
ہم بس عدم اعتماد میں پیپلزپارٹی کی حمایت کررہے ہیں، وزیراعظم کے نام پرہمیں اعتماد میں نہیں لیا،چوہدری یاسین کو نامزد کرنے کا ان کا ذاتی فیصلہ ہے،راجہ فاروق حیدرکی میڈیا گفتگو

آزاد کشمیر میں ان ہاؤس تبدیلی کا معاملہ، پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کے امیدوار کا نام فائنل کرلیا۔ذرائع کے مطابق مرکزی قیادت نے وزارت عظمیٰ کیلئے چودھری یاسین کی منظوری دے دی، چودھری یاسین کا نام بلاول بھٹو کے ساتھ اجلاس میں اناؤنس کیا گیا۔پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی قیادت اجلاس میں موجود تھی، پیپلز پارٹی میں وزارت عظمیٰ کے لئے چار ناموں پر غور ہورہا تھا۔ذرائع کے مطابق وزارت عظمیٰ کی فہرست میں چودھری یاسین، لطیف اکبر، فیصل ممتاز راٹھور اور سردار یعقوب خان کا نام شامل تھا۔چیٔرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے چودھری یاسین کا نام فائنل کرلیا، پارٹی کی جانب سے باقاعدہ اعلان آج رات تک کیا جائے گا۔ذرائع کاکہنا ہے کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد بھی آئندہ 24 گھنٹے میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔دوسری جانب سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نون آزاد کشمیر کے پارلیمانی لیڈر راجہ فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ ہم بس عدم اعتماد میں پیپلزپارٹی کی حمایت کررہے ہیں، میں جب آزاد کشمیر میں جب بھی عدم اعتماد کا ووٹ دیا جائے گا تو وہی اعتماد کا ووٹ ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نون آزاد کشمیر کے پارلیمانی لیڈر راجہ فاروق حیدر نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی نے وزیراعظم کے نام کے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا، پیپلزپارٹی کے پاس پہلے ہی 27 ارکان کی حمایت موجود تھی،پیپلزپارٹی نے 27 ارکان کی حمایت کیوجہ سے ہم سے وزیر اعظم کے حوالے سے ہم سے مشورہ نہیں کیا،چوہدری یاسین کو نامزد کرنے کا پیپلزپارٹی کا ذاتی فیصلہ ہے، ہم بھرپور اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے، دیگر لوگ بھی ہمارے ساتھ ہوں گے،آزاد کشمیر کی اپوزیشن میں 20 تا 22 لوگ بھرپور کردار ادا کریں گے، انوارالحق کی حکومت میں اپوزیشن 3 سے 4 لوگوں پر مشتمل تھی،نظام کو کامیاب رکھنے کیلئے مضبوط اپوزیشن کی ضرورت ہوتی ہے،انوارالحق کی حمایت ہماری غلطی نہیں قیادت کا حکم تھا، ہم نے انوارالحق کو ووٹ دینے سے انکار کیا مگر قیادت نے کہا یہ کریں، انوار الحق کا مسئلہ یہ تھا کہ سیاسی جماعتوں کی نہیں ایم ایل ایز کی حکومت تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی

عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ  -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیا

ایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشن

ماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔

اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکم

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔

معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت

ریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔

واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔

عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔

 ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو