چودھری یاسین نئے وزیراعظم آزاد کشمیر ہوں گے، پیپلزپارٹی نے منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
چیئرمین پیپلز پارٹی نے چودھری یاسین کا نام فائنل کرلیا، پارٹی کی جانب سے باقاعدہ اعلان آج رات تک کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد بھی آئندہ 24 گھنٹے میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد کشمیر میں ان ہاؤس تبدیلی کا معاملہ، پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کے امیدوار کا نام فائنل کرلیا۔ ذرائع کے مطابق مرکزی قیادت نے وزارت عظمیٰ کیلئے چودھری یاسین کی منظوری دے دی، چودھری یاسین کا نام بلاول بھٹو کے ساتھ اجلاس میں اناؤنس کیا گیا۔ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی قیادت اجلاس میں موجود تھی، پیپلز پارٹی میں وزارت عظمیٰ کے لئے 4 ناموں پر غور ہورہا تھا۔
ذرائع کے مطابق وزارت عظمیٰ کی فہرست میں چودھری یاسین، لطیف اکبر، فیصل ممتاز راٹھور اور سردار یعقوب خان کا نام شامل تھا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے چودھری یاسین کا نام فائنل کرلیا، پارٹی کی جانب سے باقاعدہ اعلان آج رات تک کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد بھی آئندہ 24 گھنٹے میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چودھری یاسین پیپلز پارٹی کا نام
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔