آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی کا معاملہ آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سعودی عرب کا دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ اب امکان ہے کہ حتمی مشاورت کے بعد تحریک عدم اعتماد پیش کردی جائےگی۔

آزاد کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اپنی حکومت بنانے جا رہی ہے، تاہم وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے مسلم لیگ ن نے ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر حکومتی تبدیلی: ن لیگ کا تحریک عدم اعتماد میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دینے کا اعلان

پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں تحریک عدم اعتماد کے لیے اپنی اکثریت شو کر دی ہے۔ آزاد کشمیر اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی کی تعداد 17 تھی، تاہم پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کے 10 ارکان کی شمولیت کے بعد یہ تعداد 27 ہوگئی ہے، اور تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 27 ارکان کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔

دوسری جانب سیکریٹری جنرل پیپلز پارٹی آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کر دیے ہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پارٹی قیادت ایک سے دو روز میں نئے قائد ایوان کا اعلان کرےگی، انہوں نے دعویٰ کیاکہ اس وقت ہمیں 37 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جبکہ 5 مزید ارکان نے ساتھ دینے کا یقین دلایا ہے۔

ادھر وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے استعفیٰ نہ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر: پی ٹی آئی کا منحرف ارکان اسمبلی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ، کیا تحریک عدم اعتماد رک جائےگی؟

وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں 5 سال کے دوران چوتھا وزیراعظم اپنے عہدے کا حلف اٹھائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزاد کشمیر تحریک عدم اعتماد چوہدری انوارالحق حکومتی تبدیلی شہباز شریف وزیراعظم آزاد کشمیر وزیراعظم پاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تحریک عدم اعتماد چوہدری انوارالحق حکومتی تبدیلی شہباز شریف وزیراعظم پاکستان چوہدری انوارالحق تحریک عدم اعتماد عدم اعتماد کی پیپلز پارٹی کے لیے

پڑھیں:

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

 وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری