اسلام آباد (نیوزڈیسک ) سابق ایم این اے محمود مولوی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں عمران اسماعیل نے کہا کہ تحریک انصاف کی موجودہ قیادت نااہل ہے،واضح نظر آرہا ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس اب کوئی راستہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی مصالحت کی بات کرے ورنہ شرمندگی ہوگی، تحریک انصاف سمیت تمام جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھنا ہوگا،جھگڑوں کو پس پشت ڈال کر ایک سمت پر چلنا چاہیے۔

سابق گورنر سندھ نے مزید کہا کہ ہمیں سب سے بات کرنی پڑے گی، رویے تبدیل کرنا ہوں گے، بڑے عرصے کے بعد پاکستانی دنیا میں سر اٹھا کرچل رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں احتساب کی باتیں تو ہوئیں عملاً احتساب نہیں ہوا، فیض حمید کو 14 سال کی سزا سنائی گئی، ایسا طریقہ اپنایا گیا جو پاکستان کی فوج کے لیے بھی مشکل تھا۔

عمران اسماعیل نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو اب ایک سمت دینی ہے، جھگڑوں کو پس پشت ڈال کر ایک سمت پرچلنا چاہیے، تحریک انصاف سمیت تمام جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جنھوں نے تحریک انصاف کےلیے 22 سال جدوجہد کی وہ پارٹی چھوڑ گئے یا سائیڈ پر ہو گئے۔

محمود مولوی نے کہا کہ فوجی عدالت کا فیصلہ خوش آئند ہے،فیض حمید کی وجہ سے اداروں کو نقصان پہنچا،تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھنا چاہیے کہ ہم کس راہ پر چلیں۔

ان کا کہنا تھاکہ ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں لیکن کسی جماعت میں جمہوریت نہیں ہے، نئے انتظامی یونٹ بننے چاہئیں تاکہ ترقی ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد