کراچی:

سندھ حکومت نے کراچی فش ہاربر پر ماہی گیروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

صوبائی وزیر محمد علی ملکانی کا کہنا ہے کہ ماہی گیروں کو آئین کے مطابق حقوق اور سہولیات فراہم کی جائیں گی، فش ہاربر پر ماہی گیروں کو درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔

فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کی چیئرپرسن فاطمہ مجید کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر لائیو اسٹاک و فشریز محمد علی ملکانی نے کہا کہ شکار سے لے کر مچھلی مارکیٹ تک انہیں درپیش مشکلات کو ایف سی ایس کے ساتھ بیٹھ کر آئین و قانون کے مطابق حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اس موقع پر سیکریٹری لائیو اسٹاک اینڈ فشریز ڈاکٹر کاظم حسین جتوئی، ایم ڈی کراچی فشریز ہاربر اتھارٹی زاہد کھمیٹیو، ایف سی ایس اور ہاربر اتھارٹی کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔

فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کی چیئرپرسن فاطمہ مجید نے کہا کہ فیسوں میں رعایت دی جائے، جس پر وزیر محمد علی ملکانی نے کہا کہ ایسی رعایت کے لیے آپ یہ معاملہ کراچی فش ہاربر اتھارٹی کے بورڈ میں لائیں جہاں اس پر بحث کے بعد بورڈ کے منظور شدہ قواعد کے مطابق رعایت پر غور کیا جائے گا۔

انہوں نے ہدایت دی کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں اور جلد از جلد مسئلہ حل کیا جائے تاکہ ماہی گیر بھائیوں کو اپنی شکار کی گئی مچھلی مارکیٹ میں لانے میں جو مشکلات ہیں، وہ دور کی جا سکیں۔

محمد علی ملکانی نے کہا کہ ماہی گیر بھائیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنا شکار اور روزگار آسانی سے جاری رکھ سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ماہی گیروں نے کہا کہ فش ہاربر کراچی فش

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم