بحریہ ٹاؤن کی ایک اور قیمتی جائیداد ’کلب روڈ پراپرٹی‘ بھی کامیاب نیلامی کے بعد فروخت کردی گئی ہے۔ اس نیلامی میں میڈیا آؤٹ لیٹ آزاد ڈیجیٹل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر و معروف قانون دان ایڈووکیٹ مصور عباسی نے ایک بار پھر سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔

بدھ کے روز ہونے والی نیلامی میں بحریہ ٹاؤن کی کلب روڈ پر واقع جائیداد 2 ارب 5 کروڑ روپے میں فروخت ہوئی، جسے آزاد ڈیجیٹل کے سی ای او مصور عباسی نے حاصل کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کے شاپنگ مال کی نیلامی کا حکم واپس، عدالت نے کیس نمٹادیا

نیلامی کے دوران کئی معروف سرمایہ کار اور کاروباری شخصیات نے حصہ لیا، تاہم سخت مقابلے کے بعد سب سے زیادہ بولی لگا کر مصور عباسی نے یہ اہم جائیداد اپنے نام کر لی۔

کلب روڈ کی یہ پراپرٹی اپنی جدید تعمیر، مرکزی محل وقوع اور کاروباری اہمیت کے باعث سرمایہ کاروں کی خاص توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ بحریہ ٹاؤن کی جانب سے نیلامی کا عمل شفاف انداز میں مکمل کیا گیا، جس کی شرکا نے تعریف کی۔

جائیداد حاصل کرنے کے بعد مصور عباسی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ سرمایہ کاری آزاد ڈیجیٹل کے بزنس ایکسپینشن پلان کا اہم حصہ ہے۔ ہمارا مقصد پاکستان میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو ایک دوسرے سے جوڑ کر جدید کاروباری ماڈلز کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ بحریہ ٹاؤن کی نیلامیاں نہ صرف سرمایہ کاری کے نئے مواقع فراہم کر رہی ہیں بلکہ ملکی معیشت میں شفاف کاروباری رجحانات کو بھی فروغ دے رہی ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بحریہ ٹاؤن کی روبیش مارکی کی نیلامی میں بھی مصور عباسی نے کامیابی حاصل کی تھی، جو ان کی بڑھتی ہوئی کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اب بحریہ ٹاؤن میں سرمایہ لگانے اور رہائش اختیار کرنے والوں کا کیا ہوگا؟ نیب نے واضح کردیا

بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کے مطابق آئندہ دنوں میں مزید جائیدادیں بھی نیلامی کے لیے پیش کی جائیں گی تاکہ سرمایہ کاروں کو محفوظ، شفاف اور پائیدار سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آزاد ڈیجیٹل بحریہ ٹاؤن جائیداد نیلام کاروباری شخصیت مصور عباسی وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا زاد ڈیجیٹل بحریہ ٹاؤن جائیداد نیلام کاروباری شخصیت وی نیوز بحریہ ٹاؤن کی سرمایہ کاری

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی