پی ایس ایل انتظامیہ نے نئی ٹیموں کی نیلامی کی تصدیق کر دی
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان نصیر نے تصدیق کی ہے کہ سال 2026 میں لیگ کے 11ویں ایڈیشن کے لیے 2 نئی فرنچائز ٹیموں کی نیلامی منعقد کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل فرنچائزز کے نئے 10 سالہ معاہدے: 2 نئی ٹیموں کا اضافہ، لیگ 8 ٹیمیں کھیلیں گی
یہ اعلان انہوں نے بدھ کے روز نیشنل بینک اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کے دوران کیا جہاں انہوں نے بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ جلد ہی نئی فرنچائزز کے لیے نیلامی کا عمل شروع کرے گا۔
سلمان نصیر نے کہا کہ 2 نئی پی ایس ایل فرنچائزز کے لیے نیلامی ہوگی۔ بولی لگانے والی پارٹیاں شہر کے ناموں کی فہرست سے اپنی ٹیم منتخب کر سکیں گی۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ لیگ کے آغاز سے تمام موجودہ اسپانسرشپ اور فرنچائز معاہدے ختم ہو چکے ہیں کیونکہ پی ایس ایل کا 10واں سیزن مکمل ہو چکا ہے جو کہ لیگ کی ترقی کے لیے ایک اہم مرحلہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ تمام بڑے معاہدے بشمول اسپانسرز اور فرنچائزز 10 سال کے بعد ختم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایچ بی ایل 11ویں اور 12ویں سیزن کے لیے ٹائٹل اسپانسر کے طور پر موجود رہے گا۔
پی ایس ایل کے سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے سلمان نصیر نے کہا کہ سنہ 2015 میں جب یہ ٹورنامنٹ شروع ہوا تو پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ واپس نہیں آئی تھی اور ابتدائی دور میں دلچسپی اور اسپانسرز کی تعداد محدود تھی۔
مزید پڑھیے: پی ایس ایل 11 میں 2 نئی ٹیموں کی شمولیت، چیف ایگزیکٹو نے تصدیق کردی
انہوں نے کہا کہ شروع میں دلچسپی کم تھی اور اسپانسرز بھی محدود تھے لیکن جیسے ہی یوا اے ای لیگ میں شروع ہوئی یہ جلد مقبول ہو گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرونا کی عالمی وبا جیسے مشکل حالات کے دوران بھی پی ایس ایل کبھی نہیں رکی۔
انہوں نے فرنچائزز کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ لیگ نے سیاسی اور علاقائی عدم استحکام کے وقتوں سمیت چیلنجنگ حالات میں اپنا نام قائم رکھا۔
مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے نصیر نے کہا کہ فیصل آباد اور پشاور کو ممکنہ پی ایس ایل کے مقامات کے طور پر زیر غور رکھا جا رہا ہے اور دونوں شہروں میں کرکٹ کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری اور اسٹیک ہولڈرز کی کوشش ہے کہ ہم اپنی موجودگی صرف ان 4 شہروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ مزید علاقوں میں پھیلائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پشاور اسٹیڈیم کے لیز معاملات زیر غور ہیں اور یہ دونوں مقامات ہماری طویل مدتی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل 2026 میں 2 نئی ٹیموں کی شمولیت کا امکان، کونسے شہر زیر غور؟
سلمان نصیر نے یہ بھی واضح کیا کہ نئی ٹیموں کی شمولیت کے بعد مقامات اور میچز کی تقسیم کے حتمی فیصلے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے مشورے سے کیے جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ایس ایل پی ایس ایل 11 پی ایس ایل 2026 پی ایس ایل نئی ٹیمیں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل پی ایس ایل 11 پی ایس ایل 2026 پی ایس ایل نئی ٹیمیں نئی ٹیموں کی فرنچائزز کے پی ایس ایل نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔