WE News:
2026-07-24@05:27:02 GMT

پی ایس ایل انتظامیہ نے نئی ٹیموں کی نیلامی کی تصدیق کر دی

اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT

پی ایس ایل انتظامیہ نے نئی ٹیموں کی نیلامی کی تصدیق کر دی

پاکستان سپر لیگ  (پی ایس ایل) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان نصیر نے تصدیق کی ہے کہ سال 2026 میں لیگ کے 11ویں ایڈیشن کے لیے 2 نئی فرنچائز ٹیموں کی نیلامی منعقد کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل فرنچائزز کے نئے 10 سالہ معاہدے: 2 نئی ٹیموں کا اضافہ، لیگ 8 ٹیمیں کھیلیں گی

یہ اعلان انہوں نے بدھ کے روز نیشنل بینک اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کے دوران کیا جہاں انہوں نے بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ جلد ہی نئی فرنچائزز کے لیے نیلامی کا عمل شروع کرے گا۔

سلمان نصیر نے کہا کہ 2 نئی پی ایس ایل فرنچائزز کے لیے نیلامی ہوگی۔ بولی لگانے والی پارٹیاں شہر کے ناموں کی فہرست سے اپنی ٹیم منتخب کر سکیں گی۔

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ لیگ کے آغاز سے تمام موجودہ اسپانسرشپ اور فرنچائز معاہدے ختم ہو چکے ہیں کیونکہ پی ایس ایل کا 10واں سیزن مکمل ہو چکا ہے جو کہ لیگ کی ترقی کے لیے ایک اہم مرحلہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ تمام بڑے معاہدے بشمول اسپانسرز اور فرنچائزز 10 سال کے بعد ختم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایچ بی ایل 11ویں اور 12ویں سیزن کے لیے ٹائٹل اسپانسر کے طور پر موجود رہے گا۔

پی ایس ایل کے سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے سلمان نصیر نے کہا کہ سنہ 2015 میں جب یہ ٹورنامنٹ شروع ہوا تو پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ واپس نہیں آئی تھی اور ابتدائی دور میں دلچسپی اور اسپانسرز کی تعداد محدود تھی۔

مزید پڑھیے: پی ایس ایل 11 میں 2 نئی ٹیموں کی شمولیت، چیف ایگزیکٹو نے تصدیق کردی

انہوں نے کہا کہ شروع میں دلچسپی کم تھی اور اسپانسرز بھی محدود تھے لیکن جیسے ہی یوا اے ای لیگ میں شروع ہوئی یہ جلد مقبول ہو گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرونا کی عالمی وبا جیسے مشکل حالات کے دوران بھی پی ایس ایل کبھی نہیں رکی۔

انہوں نے فرنچائزز کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ لیگ نے سیاسی اور علاقائی عدم استحکام کے وقتوں سمیت چیلنجنگ حالات میں اپنا نام قائم رکھا۔

مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے نصیر نے کہا کہ فیصل آباد اور پشاور کو ممکنہ پی ایس ایل کے مقامات کے طور پر زیر غور رکھا جا رہا ہے اور دونوں شہروں میں کرکٹ کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری اور اسٹیک ہولڈرز کی کوشش ہے کہ ہم اپنی موجودگی صرف ان 4 شہروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ مزید علاقوں میں پھیلائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پشاور اسٹیڈیم کے لیز معاملات زیر غور ہیں اور یہ دونوں مقامات ہماری طویل مدتی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔

مزید پڑھیں: پی ایس ایل 2026 میں 2 نئی ٹیموں کی شمولیت کا امکان، کونسے شہر زیر غور؟

سلمان نصیر نے یہ بھی واضح کیا کہ نئی ٹیموں کی شمولیت کے بعد مقامات اور میچز کی تقسیم کے حتمی فیصلے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے مشورے سے کیے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی ایس ایل پی ایس ایل 11 پی ایس ایل 2026 پی ایس ایل نئی ٹیمیں.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ایس ایل پی ایس ایل 11 پی ایس ایل 2026 پی ایس ایل نئی ٹیمیں نئی ٹیموں کی فرنچائزز کے پی ایس ایل نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش