پی ایس ایل فرنچائزز کے نئے معاہدوں کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے فرنچائزز کو واضح اختیار دے دیا ہے: یا تو نئی بڑھائی گئی فیس قبول کریں یا اوپن بڈ میں حصہ لیں۔
گزشتہ روز لاہور میں سی ای او سلمان نصیر کی سربراہی میں اہم اجلاس ہوا، جس میں چارٹرڈ فرم ای وائے مینا نے لیگ کی تازہ ویلیوایشن رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ کے مطابق، نئے 10 سالہ فرنچائز معاہدے نظر ثانی شدہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہوں گے، اور اس ویلیو کا تعین چارٹرڈ فرم ہی کرے گی۔ موجودہ فرنچائزز کی اہل ٹیمیں ہی نئی بولی میں حصہ لے سکیں گی۔
ویلیوایشن کے دوران نئی تجاویز بھی سامنے آئیں، جن میں فنانشل ماڈل کے تحت رقم کے تبادلے کو ڈالر کی بجائے پاکستانی روپے میں کرنے پر غور شامل ہے۔ تاہم، 2030 تک موجودہ فرنچائزز نئے معاہدے کے تحت طے شدہ ڈالر ریٹ 170.

5 کے حساب سے ہی ادائیگیاں کریں گی۔
تاریخی طور پر فرنچائزز کی خریداری: 2015 میں کراچی 2.6 ملین ڈالر، لاہور 2.5 ملین، پشاور 1.6 ملین، اسلام آباد 1.5 ملین اور کوئٹہ 1.1 ملین ڈالر میں ہوئی تھی۔ 2017 میں ملتان سلطانز 6.35 ملین ڈالر سالانہ فیس پر فروخت ہوئی۔ اب موجودہ فرنچائزز کی فیس میں بھی خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے، اور کچھ اونرز ری بڈنگ پر غور کر سکتے ہیں۔ موجودہ 6 ٹیموں کے معاہدے دسمبر میں ختم ہو رہے ہیں، اور اگلے ایڈیشن میں ٹیموں کی تعداد 8 ہو جائے گی۔ اس سلسلے میں نومبر کے پہلے ہفتے میں اشتہار جاری کیا جائے گا، اور کئی ملکی و غیر ملکی شخصیات ٹیم خریدنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، ملتان سلطانز کا کیس خاصا پیچیدہ ہو چکا ہے۔ اونر علی ترین نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو کے آخر میں نوٹس پھاڑ کر اپنی پوزیشن کمزور کر دی، البتہ بعض سیاسی شخصیات معاملہ ٹھیک کرنے میں سرگرم ہیں۔ علی ترین، جو بڑے سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، دیگر فرنچائز اونرز کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم عملی طور پر زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی۔
گزشتہ اجلاس میں چارٹرڈ فرم کے نمائندے نے شرکا کو بتایا کہ سلطانز نے ویلیوایشن کے عمل میں تعاون نہیں کیا، اور صرف ایک ای میل کے ذریعے دستاویز فراہم کی۔ پی سی بی آئندہ ایک ہفتے میں کنٹریکٹ رینیول ڈرافٹ تیار کر کے فرنچائزز کو ارسال کرے گا، اور وہ ٹیمیں جو اسے قبول نہیں کریں گی، اوپن بڈ میں شامل ہوں گی۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔

مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمی

مارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟

مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔

ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

کرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔

ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔

سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔

’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہ

کرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف)  سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔

مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان

اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔

کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکم

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ