ماہرہ خان اپنی بہو کو کون سا خاص تحفہ دینے والی ہیں؟ جواب نے مداحوں کو حیران کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
پاکستان کی معروف اداکارہ ماہرہ خان نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنی شادی کی "دعائے خیر" کا جوڑا مستقبل میں اپنی بہو کو دیں گی۔
سوشل میڈیا پر ماہرہ خان کے ایک انٹرویو کا کلپ وائرل ہورہا ہے، جس میں وہ اپنی شادی کی تقریبات اور ملبوسات کے بارے میں گفتگو کر رہی ہیں۔
ماہرہ خان نے بتایا کہ اُن کی شادی کی تقریبات کا آغاز دعائے خیر سے ہوا تھا، جو اُن کی والدہ کی خواہش پر گھر میں منعقد کی گئی تھی۔ اس تقریب میں معروف شاعرہ زہرہ نگاہ نے دعا کروائی تھی۔
اداکارہ کے مطابق، "دعائے خیر کی تقریب میرے لیے بہت خاص تھی۔ میرا لباس ڈیزائنر عمر سعید نے حیدرآبادی انداز میں تیار کیا تھا۔ میں نے اس کے ساتھ ہلکا میک اپ، پھولوں کے گہنے اور چوٹی باندھی تھی۔"
View this post on InstagramA post shared by Mahira Khan (@mahirahkhan)
ماہرہ خان نے مزید کہا، "یہ جوڑا میرے دل کے بہت قریب ہے، اور میں چاہتی ہوں کہ جب میرا بیٹا شادی کرے تو یہ جوڑا میں اپنی بہو کو دوں، تاکہ وہ جانے کہ اس لباس میں کتنی محبت اور جذبات شامل ہیں۔"
واضح رہے کہ ماہرہ خان نے اکتوبر 2023 میں کاروباری شخصیت سلیم کریم سے دوسری شادی کی تھی، جبکہ پہلی شادی سے اُن کا ایک بیٹا اذلان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ماہرہ خان نے شادی کی
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔