سندھ اسمبلی:ای چالان کے نا م پر بھاری جرمانوں کیخلاف جماعت اسلامی کی قرار داد
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251031-08-23
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے سندھ حکومت کی جانب سے ای چالان کے نام پر کراچی کے شہریوں پر ظلم اور بھاری جرمانوں کے خلاف سندھ اسمبلی میں قرار داد جمع کرادی اور مطالبہ کیا کہ شہریوں پر ظلم بند اور ای چالان کا نوٹیفکیشن فی الفور واپس لیا جائے ، اپنی قرار داد میں انہوں نے کہا کہ ای چالان محض تنبیہ کی حد تک استعمال کیے جائیں ، سڑکوں پر نصب کیمروں کو جرائم کی کمی کے لیے استعمال کیا جائے ، کراچی کی بیشتر چھوٹی بڑی شاہراہیں بدترین حالت میں ہیں ، سڑکوں پر کسی قسم کے نشانات موجود نہیں ہیں ، نہ ہی اسپیڈ اور دیگر حوالوں سے کوئی ہدایاتی بورڈز موجود ہیں اس کے باوجود حد سے زیادہ بھاری جرمانے لگائے جا رہے ہیں جبکہ پنجاب میں جہاں سڑکیں بہت بہتر ہیں ، سڑکوں پر نشانات موجود ہیں ، جرمانوں کی رقومات سندھ کے مقابلے میں بہت کم ہیں ، بعض جرمانہ تو سندھ میں 5ہزار تو پنجاب میں 200 ہے ،یہ فرق سندھ کے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو ظاہر کرتا ہے ، جس کا نشانہ صرف کراچی کے شہری بن رہے ہیں ۔ کراچی میں بدترین بے روزگاری ،انتہائی غریب اور کم آمدنی والے طبقات بالخصوص موٹر سائیکل سواروں کے لیے یہ بدترین اور ظالمانہ سلوک کے مترادف ہے ، لہٰذا فوری طور پر ان جرمانوں کو ختم کیا جائے ، ٹریفک پولیس کو شہریوں کو تنگ کرنے کے بجائے ٹریفک کو منظم کرنے اور سواروں کو تربیت پر لگایا جائے ، سڑکیں درست کی جائیں تاکہ لوگ غلط راستہ اختیار کرنے پر مجبور نہ ہوں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔