معروف اداکارہ صبا قمر نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ انہیں ذہنی دباؤ کے باعث دل کا دورہ پڑا اور ان کی انجیوگرافی کی گئی۔

ایک انٹرویو میں ذہنی صحت کے موضوع پر بات کرتے ہوئے صبا قمر نے کہا کہ ہم اکثر خود کو بہت مضبوط سمجھتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ ہم ہر مسئلے سے نمٹ سکتے ہیں، لیکن جو احساسات ہم دل میں چھپاتے ہیں وہ کسی نہ کسی دن دل کے دورے کی شکل میں سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ذہنی دباؤ اور دل کی تکالیف کبھی کبھار پینک اٹیک کی صورت بھی لے لیتے ہیں۔

During a recent podcast, Saba Qamar revealed that she had to deal with panic attacks, bouts of anxiety and a heart attack because she would keep storing stress inside of her and not let her emotions out, which manifested in the form of her health scare, counseling others not to… pic.

twitter.com/xmOWypaxyG

— RASALA.PK (@rasalapk) October 29, 2025

صبا قمر نے مزید کہا کہ لوگ اکثر پینک اٹیک اور بے چینی کو مذاق میں لیتے ہیں، لیکن جب یہ واقعی ہوتا ہے تو بہت تکلیف دہ ہوتا ہے اور یہ تجربہ کسی دشمن کے ساتھ بھی نہ ہو۔

یاد رہے کہ یکم اگست کو اداکارہ صبا قمر کو شوٹنگ کے دوران اچانک طبیعت خراب ہونے پر اسپتال داخل کروایا گیا تھا۔ صبا قمر، جو پاکستان کی صف اول کی فنکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں، ان دنوں ان کے ڈرامے ’پامال‘ اور ’کیس نمبر 9‘ نشر ہو رہے ہیں جنہیں صارفین کی جانب سے بےحد پسند کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستانی اداکارہ پامال صبا قمر صبا قمر ہارٹ اٹیک کیس نمبر 9

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستانی اداکارہ پامال صبا قمر ہارٹ اٹیک کیس نمبر 9

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق