سندھ میںصحت کا شعبہ ہمیشہ عوامی خدمت کی علامت رہا ‘عذراپیچوہو
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ میں صحت کا شعبہ ہمیشہ ترقی، جدت اور عوامی خدمت کی علامت رہا ہے۔ اسی تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیرِ صحت و بہبودِ آبادی سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں ایڈوانسڈ آرتھوپیڈک سروسز اور فلیبوٹومی یونٹ کا افتتاح کردیا۔ وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا ہے کہ ان ایڈوانسڈ سروسز اور یونٹس کا مقصد ہڈیوں، جوڑوں، کھیلوں سے متعلق چوٹوں، بچوں کی ہڈیوں کے امراض اور ہڈیوں کے رسولیوں کے مریضوں کو عالمی معیار کی علاج کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ ملک کے پبلک سیکٹر میں پہلی بار جدید آرتھوپیڈک سب اسپیشلٹی کلینکس اور فلیبوٹومی یونٹ کا قیام کیا گیا جو انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹرز نے وزیرِ صحت کو نئے آپریشن تھیٹرز، کلینکس اور فلیبوٹومی یونٹ کے بارے میں بریفنگ دی اور بتایا کہ ان جدید سہولیات سے مریضوں کو فوری اور بہتر علاج مل سکے گا۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے نئے یونٹس کا معائنہ کیا اور مریضوں سے ملاقات بھی کی۔ وزیر صحت کا کہنا تھا کہ حکومت صوبے کے تمام اضلاع میں خصوصی سرجیکل سہولتیں فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ عوام کو علاج کے لیے دوسریشہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔یہ یونٹس عوام کے لیے حکومت سندھ کا بڑا تحفہ ہیں جو معیاری علاج، تربیت یافتہ عملہ اور جدید سہولتوں کے ساتھ لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لائیں گے۔ افتتاح کے موقع پر وائس چانسلر پروفیسر امجد سراج، ایگزیکٹو ڈائریکٹر جے پی ایم سی پروفیسر شاہد رسول، پرو وائس چانسلر پروفیسر نگہت شاہ و دیگر ماہرین نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔