سعودی عرب میں بے زبان جانوروں خصوصاً بلیوں سے محبت کرنے والے پاکستانی نژاد رضاکار یاسر کے اچانک انتقال نے ملک بھر میں غم و سوگ کی فضا پیدا کردی۔

یاسر کئی برسوں سے ریاض میں مقیم تھے اور اپنی رہائش گاہ میں درجنوں بے سہارا بلیوں کو پناہ دیتے، ان کی دیکھ بھال کرتے اور زخمی یا بیمار بلیوں کا علاج کراتے تھے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق وہ بلندی سے گرنے کے باعث جاں بحق ہوئے۔

إنسان بسيط، رحل وهو يحاول ينقذ قطة من فوق سطح منزل.

. سقط ومات شهيد الرحمة
كان قلبه رحيم بكل مخلوق حتى آخر لحظة من عمره

الله يرحمك يا ياسر ويجعل عملك الطيب شفيعًا لك ويجعل رحمتك بالحيوانات سببًا لرحمة الله بك #وفاه_المنقذ_ياسر#المنقذ_ياسر_الباكستاني

— A B R A R – A L D A H M A S H I (@Princess__Bero) October 22, 2025

ان کی وفات کی خبر سامنے آتے ہی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر ہر طرف سے تعزیتی پیغامات سامنے آنے لگے۔ اور ہزاروں افراد نے ان کے لیے دعائے مغفرت کی۔ لوگوں نے ان کے خلوص، انسان دوستی اور جانوروں سے شفقت کو سراہتے ہوئے انہیں حقیقی ’رحمت کا پیکر‘ قرار دیا۔

یاسر کے انتقال کے بعد رحمت فلاحی انجمن برائے جانور کے رضاکار فوری طور پر ان کے گھر پہنچے اور وہاں موجود درجنوں بلیوں کو محفوظ مراکز میں منتقل کردیا۔

تنظیم کے مطابق تمام بلیوں کو خوراک، علاج اور دیکھ بھال کی سہولت فراہم کرکے انہیں متبنّی خاندانوں اور دیگر نجات دہندگان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین نے لکھا کہ جو شخص بے زبان مخلوق پر رحم کرتا ہے، خدا اس پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ ایک صارف نے یاسر کے لیے لکھا: اللہ یاسر کو اپنی رحمت سے نوازے، ان کے عمل کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔

یاسر کی زندگی خدمت، محبت اور ایثار کی روشن مثال تھی۔ وہ برسوں سے ریاض کی گلیوں میں بھوکی، زخمی اور بیمار بلیوں کو اٹھاتے، ان کا علاج کرتے اور انہیں دوبارہ زندگی دیتے رہے۔ ان کا چھوٹا سا گھر دراصل بے سہارا بلیوں کے لیے ایک محبت بھرا ٹھکانہ بن چکا تھا، جہاں ہر جانور کو تحفظ اور پیار میسر آتا تھا۔

مزید پڑھیں: بلیاں گھاس کیوں کھاتی ہیں؟ طویل تحقیق کے بعد حیران کن وجہ سامنے آگئی

یاسر کی وفات کے بعد متعدد صارفین نے ان کے لیے دعا کی کہ اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، جن بلیوں کو انہوں نے بچایا وہ قیامت کے دن ان کے حق میں گواہی دیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews انتقال بلیوں سے محبت پاکستانی نژاد جانوروں سے پیار سعودی عرب وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انتقال بلیوں سے محبت پاکستانی نژاد جانوروں سے پیار وی نیوز بلیوں کو کے لیے

پڑھیں:

مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟

ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔

الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔

الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔

گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے