وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا عوامی اجتماع سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
لاہور (طارق محمود سمیر) — وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت ہمیشہ عوامی خدمت کے لیے سرگرم رہی ہے اور حکومت نے عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ماضی میں بھی عوام کے درمیان تھے اور آج بھی براہِ راست لوگوں کے مسائل سن رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حلقے میں بنیادی سہولیات کے متعدد منصوبے مکمل کیے جا رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) نے ملک بھر میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا۔ ان کے مطابق، ملک کے ہر بڑے منصوبے پر نواز شریف کی خدمات واضح طور پر نظر آتی ہیں کیونکہ انہوں نے ہمیشہ تعمیر و ترقی کی سیاست کو ترجیح دی ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں گزشتہ ساڑھے بارہ سال سے ایک ہی جماعت کی حکومت کے باوجود ترقیاتی منصوبے نظر نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کو بہتر بنانے میں ناکام رہی اور ایک ہسپتال تک تعمیر نہ کر سکی، جبکہ مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں فرانزک لیب جیسے بڑے منصوبے قائم کیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پشاور میں ہونے والے جلسے کو عوام نے مسترد کیا، جبکہ انہوں نے ایک سیاسی رہنما پر 190 ملین پاؤنڈ کی مبینہ کرپشن اور معیشت کو نقصان پہنچانے کے الزامات بھی دہرائے۔ ان کے مطابق، اس شخص نے ہسپتالوں اور فلاحی منصوبوں کے فنڈز تک میں بے ضابطگیاں کیں۔
وزیر اطلاعات نے قومی دفاع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج نے دشمن کو ہمیشہ بھرپور جواب دیا ہے اور بھارت پاکستانی فوج کی صلاحیتوں سے خوفزدہ رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت دشمن پر واضح دباؤ کا باعث بنی ہوئی ہے۔
اپنی گفتگو میں انہوں نے تحریک انصاف کی سابقہ حکومت پر الزام لگایا کہ وہ بھارت کے خلاف مؤثر موقف اختیار کرنے میں ناکام رہی اور ان کے دور میں کشمیر اور فلسطین کے اہم مسائل کو نظرانداز کیا گیا۔ عطا اللہ تارڑ نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کے کچھ سوشل میڈیا اکاؤنٹس ریاستی اداروں کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عطا اللہ تارڑ وزیر اطلاعات انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :