صبا قمر کا کراچی بیان پر تنقید کے بعد معنی خیز ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
معروف اداکارہ صبا قمر نے کراچی سے متعلق اپنے حالیہ بیان پر ہونے والی تنقید کے بعد وضاحتی ردعمل جاری کیا ہے۔
صبا قمر پاکستان کی ان اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں جو ہر کردار کو مکمل طور پر اپنا کر پیش کرتی ہیں اور اپنی منفرد سوچ اور حقیقت پسندی کے لیے بھی جانی جاتی ہیں۔
چند روز قبل ایک پوڈ کاسٹ میں پوچھا گیا کہ “کیا آپ ہمیشہ کے لیے کراچی منتقل ہونا چاہیں گی؟” اس پر صبا قمر نے جواب میں فوراً استغفراللہ کہا۔
صبا قمر کے اس جواب پر کچھ کراچی سے تعلق رکھنے والے افراد نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور معافی کا بھی مطالبہ کیا، جبکہ کچھ نے یاد دلایا کہ انہوں نے کراچی میں کام بھی کیا ہے، تو شہر کی تنقید کیوں کی گئی۔
دو دن کے بعد اداکارہ نے انسٹاگرام اسٹوری پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا:
میں مصروف تھی اور اب دیکھا کہ میرے ایک خیال یا جملے کو بریکنگ نیوز کی طرح پیش کر دیا گیا۔ سوال پر میں نے صرف اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔
اداکارہ عفت عمر نے بھی صبا قمر کے حق میں بات کی اور کہاجب کراچی واقعی گندا ہے تو پھر کسی کو اسے پسند کرنے پر مجبور کیوں کیا جا رہا ہے؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔