data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

رات کے وقت زیادہ تیز روشنی میں رہنا صرف نیند کی خرابی کا باعث نہیں بنتا بلکہ ادھیڑ عمر افراد کے لیے سنگین دل اور دماغی امراض کے خطرات میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔

حالیہ طبی تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ جو لوگ رات میں مصنوعی روشنی کے زیرِ اثر رہتے ہیں، ان میں فالج  اور ہارٹ فیلیئر جیسے خطرناک امراض لاحق ہونے کے امکانات نمایاں طور پر زیادہ ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق نیند کے دوران جسم کی بحالی اور اعضا کی کارکردگی کا توازن روشنی کے اثر سے متاثر ہوتا ہے۔ زیادہ روشنی دماغ کے سرکیڈین ردم (Circadian Rhythm) کو بگاڑ دیتی ہے، جو جسم کے قدرتی سونے جاگنے کے نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔

اس خلل کے نتیجے میں نیند نہ صرف کم ہوتی ہے بلکہ اس کا معیار بھی متاثر ہوتا ہے، جو بعد ازاں بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور ہارمونز کے توازن میں بگاڑ پیدا کرتا ہے۔

تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ سونے کے وقت موبائل، ٹی وی یا کمرے کی روشنیاں بند نہیں کرتے، ان میں کورٹیسول جیسے اسٹریس ہارمون کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ یہ ہارمون جسم میں مسلسل دباؤ پیدا کرتا ہے، جو دل کی رگوں کو سخت کرتا ہے اور دل کے پٹھوں پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔ نتیجتاً وقت کے ساتھ ساتھ ہارٹ فیلیئر یا دل کے دورے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین نے مزید وضاحت کی ہے کہ رات کی روشنیاں دماغی خلیات پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں، جس سے دماغی دباؤ اور مائیکرو سلیپ (چند سیکنڈ کی بے خبر نیند) جیسے مسائل بڑھتے ہیں۔ یہ معمولی دکھائی دینے والے اثرات طویل مدت میں دماغی خون کی روانی میں خلل ڈال کر فالج کے خطرات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ رات کے وقت نیند کے دوران ماحول کو زیادہ سے زیادہ اندھیرا رکھنا چاہیے۔ خاص طور پر موبائل فون، لیپ ٹاپ یا ایل ای ڈی لائٹس کا استعمال سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے ترک کر دینا بہتر ہے۔ سادہ اندھیرا ماحول نیند کے معیار کو بہتر بناتا ہے، جسم کے ہارمونی توازن کو برقرار رکھتا ہے اور دل و دماغ کی صحت کے لیے قدرتی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر نیند کے دوران روشنی کی ضرورت ہو تو مدھم یا سرخ رنگ کی لائٹ استعمال کی جائے کیونکہ سفید یا نیلی روشنی دماغ کو بیدار رکھنے کے سگنل دیتی ہے۔ اس چھوٹی سی تبدیلی سے دل کے امراض، فالج اور دیگر عمر رسیدہ بیماریوں کے خطرات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نیند کے رات میں کرتا ہے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا