Islam Times:
2026-06-03@07:50:45 GMT

موضوع: حضرت زینب ّمعاصر دنیا کی رول ماڈل کیوں اور کیسے

اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںہفتہ وار  پروگرام دین و دنیا
موضوع: حضرت زینب ّمعاصر دنیا کی رول ماڈل کیوں اور کیسے
مہمان: حجہ الاسلام و المسلمین عون حیدر علوی
میزبان: محمد سبطین علوی
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
 
موضوعات گفتگو:
????حضرت زینب کی عظمت اور فضیلت کا اصل سبب کیا ہے، اور کیا یہ صرف نسبی تعلقات پر منحصر ہے؟
????حضرت زینب کبریٰ کو "حسینِ ّدوم" کیوں کہا گیا، اور یہ تصور اس عظیم الہٰی قیام میں ان کے مرکزی کردار کو کیسے واضح کرتا ہے؟
????آج کے دور کی خواتین کے لیے، حضرت زینب کبریٰ کیسے ایک مثالی رول ماڈل ہیں۔
خلاصہ گفتگو:
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی عظمت صرف نسبی تعلق پر نہیں بلکہ ان کی ایمان، بصیرت اور جہاد کی بنیاد پر قائم ہے۔ وہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے امام حسینؑ کے قیام کو جاودان بنا دیا۔ کربلا کے بعد جب ظاہری طور پر سب کچھ ختم ہوتا نظر آیا، تو حضرت زینبؑ نے اپنی خطابت، صبر اور شعور سے دشمن کے دربار میں حق کو زندہ کیا۔ اسی لیے انہیں "حسینِ دوم" کہا گیا، کیونکہ امام حسینؑ نے تلوار سے اور زینبؑ نے زبان سے وہی مشن جاری رکھا۔ آیت اللہ خامنہ‌ای کے بقول، اگر زینبؑ نہ ہوتیں تو عاشورا ایک دن کی تاریخ بن کر رہ جاتا۔ آج کی خواتین کے لیے زینبؑ ایک کامل رول ماڈل ہیں — باحیا، باشعور اور بااستقامت عورت جو معاشرے کی اصلاح اور دین کی حفاظت کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ زینبؑ کا پیغام ہے کہ ایمان، علم اور حیا کو یکجا رکھ کر ہی عورت کربلا کی وارث بن سکتی ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

وسیم، مصباح اور فخرِ عالم نے حج کرکے بال کیوں نہیں منڈوائے؟

پاکستان کی نامور ٹی وی شخصیت فخرِ عالم نے سابق کرکٹرز وسیم اکرم اور مصباح الحق کے ساتھ حال ہی میں حج کا فریضہ سرانجام دیا۔تینوں شخصیات نے حج پر سر کے بال نہیں منڈوائے جس کی وجہ فخرِ عالم نے ایک ویڈیو میں بتائی۔فخرِ عالم نے کہا کہ 'حج پر آنے سے قبل ہم نے بہت سے علمائے کرام سے اس بارے میں پوچھا، ہمیں واضح طور پر بتایا گیا کہ ہر کسی کے پاس دو آپشنز موجود ہوتے ہیں کہ چاہے وہ سر منڈوائیں اور چاہیں تو نہ منڈوائیں'۔ٹی وی میزبان نے کہا 'ہاں سر منڈوانے کی زیادہ فضیلت ہے لیکن آپ تھوڑے سے بال بھی کٹواسکتے ہیں تاکہ فرض پورا ہوجائے'۔فخرِ عالم کا مزید کہنا تھا 'ہم پر بہت سے لوگوں نے تنقید کی کہ کیا آپ وہاں پکنک کرنے گئے تھے؟ تو میں بتاتا چلوں کہ اس میں 24 گھنٹے ہوتے ہیں اور جب آپ پورا دن گزارتے ہیں تو اس میں عبادت بھی ہوتی ہے، اس میں انسان کبھی غمزدہ بھی ہوتا ہے، کبھی ہنس بھی رہا ہوتا ہے اور کبھی دوستوں سے خوش گپیاں بھی لگاتا ہے'۔انہوں نے کہا کہ 'یہ ہی حج ہے کہ مسلمان آپس میں مل جل کر رہیں اور ایک دوسرے سے تعلق قائم کریں'۔

متعلقہ مضامین

  • وسیم، مصباح اور فخرِ عالم نے حج کرکے بال کیوں نہیں منڈوائے؟
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان