ٹک ٹاک ویڈیو کے دوران فائرنگ، نوبیاہتا لڑکی جاں بحق، شوہر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: شہر قائد کے علاقے گلستان جوہر میں ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے دوران فائرنگ سے زخمی ہونے والی نوبیاہتا لڑکی دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی، افسوسناک واقعے نے سوشل میڈیا کے خطرناک رحجانات پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پولیس کے مطابق 22 سالہ فرزانہ گلستان جوہر کے علاقے پہلوان گوٹھ میں اپنے شوہر غلام مصطفیٰ کے ساتھ گھر میں ٹک ٹاک ویڈیو بنا رہی تھی، دورانِ ویڈیو شوہر کے ہاتھ میں پستول تھا، فرزانہ نے شوہر سے پوچھا کہ اس میں گولی تو نہیں ہے؟ جس پر شوہر نے جواب دیا کہ نہیں ۔
جب ویڈیو ریکارڈنگ شروع ہوئی تو فرزانہ نے پستول کی نالی اپنی کنپٹی پر رکھی اور شوہر سے کہا کہ تم ٹریگر دبا دینا،جیسے ہی شوہر نے ٹریگر دبایا، گولی چل گئی اور سر میں لگنے سے فرزانہ موقع پر شدید زخمی ہوگئی۔
فرزانہ کو فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ ہفتے کے روز دورانِ علاج جاں بحق ہوگئی، پولیس کے مطابق مقتولہ کی لاش ضابطے کی کارروائی کے بعد چھیپا سردخانے منتقل کردی گئی ہے۔
ایس ایچ او گلستان جوہر انسپکٹر کاشف ربانی کے مطابق مقتولہ کے شوہر غلام مصطفیٰ کو گرفتار کرلیا گیا ہے، اس کے قبضے سے 9 ایم ایم پستول برآمد ہوئی ہے جو بغیر لائسنس کے تھی اور کشمور سے خریدی گئی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق واقعہ بظاہر حادثاتی ہے تاہم تحقیقات جاری ہیں، فرزانہ کا رواں سال ستمبر میں غلام مصطفیٰ سے نکاح ہوا تھا، رخصتی ابھی باقی تھی، مقتولہ چند روز قبل اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ کندھ کوٹ سے کراچی آئی تھی جبکہ اس کی والدہ پینشن وصول کرنے کے لیے دو روز قبل واپس گئی تھی۔
پولیس نے مقتولہ کی والدہ کو واقعے کی اطلاع دے دی ہے جو کراچی کے لیے روانہ ہو چکی ہیں۔ ان کے پہنچنے کے بعد واقعے کا مقدمہ درج کیا جائے گا، یہ افسوسناک واقعہ ٹک ٹاک ویڈیوز میں دکھاوے کے خطرناک رجحان کا تازہ ثبوت بن گیا ہے جو پہلے بھی متعدد جانیں لے چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹک ٹاک ویڈیو کے مطابق
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔