کراچی، بھاری بھرکم ای چالان سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
شہریوں کوٹریفک چالان کی آڑ میں شناختی کارڈ بلاک کرنے کی دھمکیاں دینا
لاہور میں جرمانہ 200 ، کراچی کیلئے 5000 روپے؟ ایسا کیوں ،درخواست گزار
کراچی میں سخت ٹریفک قوانین کے نفاذ اور بھاری بھرکم ای چالان کے خلاف مرکزی مسلم لیگ نے سندھ ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کردی۔مرکزی مسلم لیگ کراچی کے صدر احمد ندیم اعوان کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں بھاری بھرکم ای چالان سسٹم کیخلاف درخواست دائر کی جس میں چیف سیکرٹری سندھ، سندھ حکومت ،آئی جی سندھ ،ڈی آئی جی ٹریفک پولیس، نادرا، ایکسائزو دیگر اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار نے کہا کہ کراچی کا انفراسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے، شہر بھر میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور روڈ نام کی کوئی چیز باقی نہیں ہے، ایسی صورت میں شہریوں پر بھاری چالان کسی عذاب سے کم نہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹریفک چالان کی آڑ میں شناختی کارڈ بلاک کرنے کی دھمکیاں دینا، شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور ہم کراچی کے ساتھ ہونے والی مسلسل ناانصافی کے خلاف قانون کا دروازہ کھٹکھٹانے آئے ہیں۔احمد ندیم اعوان نے کہا کہ ایک ہی ملک میں دو قانون کیسے قابل قبول ہوسکتے ہیں؟ لاہور میں چالان کا جرمانہ 200 روپے جبکہ کراچی والوں کے لیے 5000 روپے؟ ایسا کیوں ہے۔درخواست گزار نے استدعا کی کہ کراچی پاکستان کا معاشی دل ہے، یہاں کے شہری قانون کے پابند اور باشعور ہیں، لیکن ان کے ساتھ مسلسل امتیازی سلوک کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ای چالان سسٹم کو عوام سے پیسہ بٹورنے کا ذریعہ بنادیا ہے، جبکہ شہر کی سڑکوں، ٹریفک انتظامات اور شہری سہولیات کی حالت ناقابل بیان ہے۔ اگر حکومت نے کراچی کے شہریوں کے ساتھ یہ ناانصافی ختم نہ کی تو مرکزی مسلم لیگ قانونی جدوجہد کو مزید وسعت دے گی۔ٹریفک پولیس حکام کے مطابق جدید وخود کار فیس لیس ای ٹکٹنگ کے نظام کے نفاذ کے بعد 3 روز کے دوران ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں میں مجموعی طورپر شہریوں کوساڑھے 6 کروڑ روپے سے زائد کے 12ہزار942 ای چالان جاری کیے گیے ہیں۔پولیس کے مطابق سب سے زیادہ 7 ہزار 83 ای چالان سیٹ بیلٹ نہ باندھنے، 2 ہزار 456 بغیر ہیلمنٹ موٹرسائیکل چلانے، اوور اسپیڈ پر 1920، سگنل پرریڈ لائن کی خلاف ورزی پر829 کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال کرنے پر410 اوررانگ وے پر78 ای چالان جاری کیے گیے۔ ٹریفک پولیس کے مطابق رانگ سائیڈ ڈرائیونگ پر 78 چالان، دوران ڈرائیونگ لین کی خلاف ورزی پر 49، کالے شیشوں پر 35 چالان، اوور لوڈنگ پر 26 ، غیرقانونی اور غلط پارکنگ، اسٹاپ لائن کی خلاف ورزی پر 20 ، 20 ای چالان جاری کیے گئے۔اسی طرح ون وے رانگ وے پر 11، اوور لوڈنگ اور مسافروں کو بس کی چھتوں پر بٹھانے پر 7 چالان کیے گئے ہیں۔ترجمان کے مطابق اسٹاپ لائن کی خلاف وزری، بس لین ڈرائیو، اچانک لائن کی تبدیلی، ٹیکس کی عدم ادائیگی، فینسی نمبرپلیٹ اورون وے پرکوئی ای چالان جاری نہیں کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: چالان جاری کی خلاف ورزی نے کہا کہ کے مطابق لائن کی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔