وزیراعلیٰ سندھ کی پہلا ای چالان معاف کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
کراچی :وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آئی جی غلام نبی میمن کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر پہلا ’ای چالان‘ معاف کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر تیار کی گئی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو پیش کر دی، جس میں بتایا گیا ہے کہ ای ٹکٹنگ سسٹم کے تحت اب تک 35 سرکاری گاڑیوں کے ای چالان جاری کیے جا چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سیٹ بیلٹ نہ باندھنے، ریڈ لائٹ کو کراس کرنے، کالے شیشے (tinted glasses) اور موبائل فون کے استعمال پر مختلف گاڑیوں کو چالان کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق پولیس کی ایک سرکاری گاڑی (SPE-950) کو سیٹ بیلٹ کی خلاف ورزی پر چالان کیا گیا۔ لیاری ایکسپریس وے پر 28 اکتوبر کو دوپہر 1 بج کر 36 منٹ پر یہ پہلا ای چالان جاری ہوا، جب ڈرائیور نے دو مقامات پر سیٹ بیلٹ نہیں باندھا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ای ٹکٹنگ سسٹم نے خودکار طریقے سے کارروائی کرتے ہوئے 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ آئی جی سندھ غلام نبی میمن کے مطابق اگر کوئی شہری پہلی مرتبہ ای چالان کا سامنا کر رہا ہے تو دس دن کے اندر درخواست دینے پر معافی اور فیس کی چھوٹ دی جا سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے پہلے چالان کی معافی کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی حفاظت کے لیے ٹریفک قوانین پر عمل کرنا ضروری ہے، مہذب شہری ہمیشہ قانون کی پاسداری کرتے ہیں، اور پولیس بھی قانون سے بالاتر نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو شہری یا ادارہ دوبارہ خلاف ورزی کرے گا، اسے چالان ادا کرنا ہوگا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس کا جدید ای ٹکٹنگ سسٹم موثر ثابت ہو رہا ہے، اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے قانون پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے۔
TagsImportant News from Al Qamar.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک