صیہونی جارحیت کیخلاف لبنانی صدر کا فوج کو ڈٹ جانے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں نواف سلام کا کہنا تھا کہ حالیہ صیہونی حملے، لبنانی ریاستی اداروں اور ملک کی قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ لبنان کے صدر "جوزف عون" نے اپنی فوج سے كہا كہ وہ کسی بھی صیہونی دراندازی کے خلاف شدت سے ڈٹ جائیں۔ جوزف عون نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کی نگرانی کرنے والی کمیٹی سے بھی کہا کہ وہ صیہونی رژیم پر دباؤ ڈالیں تا کہ وہ جنگ بندی کی مزید خلاف ورزیوں سے باز رہے۔ دوسری جانب لبنانی وزیراعظم "نواف سلام" نے بلیدہ کے علاقے میں اسرائیل کے حالیہ حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے ان حملوں میں، اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران، بلدیہ بلیدہ کے ایک ملازم کے نشانہ بننے پر اظہار افسوس کیا۔ انہوں نے حالیہ صیہونی حملوں کو لبنانی ریاستی اداروں اور ملک کی قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ نواف سلام نے مزید کہا کہ لبنانی حکومت اس معاملے کو اقوام متحدہ اور جنگ بندی کے معاہدے کی حمایت کرنے والے ممالک کے ذریعے حل کر رہی ہے تاکہ اسرائیل کی خلاف ورزیوں کے خاتمے اور لبنانی علاقوں سے اس کے مکمل انخلاء کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسی کے ساتھ، لبنانی فوج نے بلیدہ میں صہیونی کارروائی کو مجرمانہ فعل، ملک کی خودمختاری اور جنگ بندی کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ لبنانی فوج نے اسرائیل کے بے بنیاد دلائل اور بہانوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی تل ابیب کی جانب سے لبنان اور اس کے شہریوں کے خلاف اپنی خلاف ورزیوں کو جواز فراہم کرنے کے لئے کی گئی۔ فوج نے جنگ بندی کی نگرانی کرنے والی کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو اس کی جارحانہ کارروائیوں اور مسلسل حملوں کو روکنے پر مجبور کرے۔ قابل غور بات ہے کہ لبنانی صدر، وزیراعظم اور فوج کے بیانات اس وقت سامنے آئے جب اسرائیل نے سرحدی علاقوں پر حملہ کرتے ہوئے لبنانی خودمختاری کی خلاف ورزی کی۔ یاد رہے کہ آج صبح صیہونی فوج کا ایک دستہ لبنان اور فلسطین کی سرحد عبور کرنے کے بعد، بلدیہ بلیدہ کی عمارت میں داخل ہو گیا۔ جس کے بعد اس علاقے میں موجود لبنانی فوج ہائی الرٹ ہوگئی۔ اس جارحیت کے بعد مذکورہ علاقے میں مزید فوجی اور ساز و سامان بھیجا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خلاف ورزی
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔