ای چالان کے خلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد، کراچی کے شہریوں پر ظلم بند کیا جائے، محمد فاروق
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
جماعتِ اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے ای ٹریفک چالان کے خلاف صوبائی اسمبلی میں قرارداد جمع کرادی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کراچی کے شہری پہلے ہی ٹوٹی سڑکوں اور غائب ٹریفک نشانات کے عذاب میں مبتلا ہیں، اب ان پر بھاری چالان مسلط کر کے مزید ظلم کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی: ڈی آئی جی ٹریفک قانون کی خلاف ورزی پر ای چالان کی زد میں آگئے
محمد فاروق نے مؤقف اختیار کیا کہ غریب موٹر سائیکل سواروں پر ہزاروں روپے کے چالان لگانا ظلم ہے۔ پنجاب میں یہی خلاف ورزی 200 روپے میں ختم ہوتی ہے، لیکن سندھ میں 5 ہزار کا جرمانہ لگایا جا رہا ہے یہ کہاں کا انصاف ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے شہری دوہری سزا بھگت رہے ہیں، ایک طرف خستہ حال سڑکیں اور دوسری جانب ای چالان کے نام پر لوٹ مار۔ ٹریفک پولیس شہریوں کو تنگ کرنے کے بجائے نظام درست کرے۔ ای چالان تنبیہ کے لیے ہونا چاہیے، اذیت کے لیے نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی میں ای چالان نظام کے نفاذ کے بعد ٹریفک قوانین کی مؤثر نگرانی، ہزاروں چالان جاری
محمد فاروق نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر بھاری چالانوں کا نوٹیفکیشن واپس لے، شہریوں کو ریلیف فراہم کرے اور شہر کے نامکمل ترقیاتی منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرے۔
رکنِ اسمبلی کا کہنا تھا کہ کیمروں سے مجرم پکڑے جائیں، شہری نہیں۔ کراچی کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: محمد فاروق کراچی کے
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔