متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رکنِ سندھ اسمبلی انجینئیر عادل عسکری نے کراچی کے شہریوں پر بنیادی سہولیات اور انفراسٹرکچر کی فراہمی کے بغیر الیکٹرانک چالان کے نفاذ کے خلاف سندھ اسمبلی میں فوری عوامی اہمیت کی تحریکِ التواء جمع کرادی ہے۔

تحریکِ التواء میں عادل عسکری نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے ٹریفک کے بنیادی انتظامات اور روڈ سیفٹی کے اقدامات کو یقینی بنائے بغیر شہریوں پر الیکٹرانک چالان کا نفاذ کیا ہے، جو سراسر ناانصافی، قبل از وقت اور نقصان دہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پورے شہر اور صوبے میں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، شہریوں کے لیے روزانہ مشکلات اور حادثات کا باعث بن رہی ہیں، شہر میں نقل و حمل کا کوئی مناسب نظام موجود نہیں اور مسافروں کے پاس عوامی نقل و حمل کے کوئی قابل عمل آپشن دستیاب نہیں ہیں۔

رکن اسمبلی نے نشاندہی کی کہ غیر فعال ٹریفک سگنل سسٹم، سڑک کے نشانات، زیبرا کراسنگ اور ٹریفک سائن بورڈز کی کمی ڈرائیوروں اور پیدل چلنے والوں کے لیے ٹریفک قوانین پر عمل کرنا ناممکن بنا رہی ہے، جبکہ مافیاز اور ناجائز قابضین کی طرف سے تجاوزات مین سڑکوں کو تنگ کر کے ٹریفک کی روانی میں مزید رکاوٹ پیدا کر رکھی ہے۔

انجینئیر عادل عسکری نے مطالبہ کیا کہ ان سنگین حالات میں شہریوں پر بھاری الیکٹرانک چالان لگانا ایک عذاب اور ظلم ہے، حکومت سڑکوں کے بنیادی انفراسٹرکچر کو یقینی بنانے کے بجائے، ناقص اور غیر منصفانہ نظام کے تحت شہریوں کو سزائیں دے رہی ہے۔

ایم کیو ایم کے رکن نے پرزور مطالبہ کیا کہ ایوان اس مسئلے پر فوری ایکشن لے اور جب تک انفراسٹرکچر بہتر نہیں ہوتا اس ریورس الیکٹرانک چالان سسٹم کو فوری طور پر معطل رکھا جائے، ساتھ ہی سڑکوں کی مرمت، فعال سگنلز لگانے، اور ناجائز تجاوزات ہٹانے کے لیے ایک جامع منصوبہ شروع کیا جائے۔

انہوں نے تحریک التواء کے ذریعے ایوان سے مطالبہ کیا کہ فوری عوامی اہمیت کے اس معاملے پر بحث کے لیے ایوان کی معمول کی کارروائی ملتوی کی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: الیکٹرانک چالان کے لیے

پڑھیں:

حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری

صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔

شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن