پاکستان کے کاسٹ آڈٹ نظام میں اصلاحات پر مشاورتی اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (کامرس ڈیسک) سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے پاکستان میں کاسٹ آڈٹ نظام کی افادیت اور موجودہ فریم ورک کا جائزہ لینے کے مقصد سے جنوری 2025ء میں ایک کنسلٹیشن پیپر جاری کیا، اس پیپر کو مختلف شعبوں کے کلیدی سٹیک ہولڈرز سے آراء حاصل کرنے کے لیے ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر شائع کیا گیا۔اس اقدام کے تسلسل میں لاہور اور کراچی میں صنعت، پیشہ ورانہ اداروں اور نگران اداروں کے نمائندوں کے ساتھ مشاورت سیشن بھی منعقد کیے گئے۔موصولہ جوابات میں وسیع تر آراء سامنے آئیں جس میں زیادہ تر شرکا نے موجودہ کاسٹ آڈٹ فریم ورک کو زیادہ تعمیلی تقاضے کے طور پر دیکھا جس کی عملی یا اقتصادی افادیت محدود ہے۔ مشاورتی عمل کے دوران موصولہ آراء کی بنیاد پر 27 اکتوبرکو ایس ای سی پی ہیڈ آفس اسلام آباد میں ایک مزید مشاورت سیشن منعقد کیا گیا جس کی صدارت ایس ای سی پی کے چیئرپرسن نے کی۔ اس سیشن میں انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکائونٹنٹس آف پاکستان ، انسٹیٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکائونٹنٹس آف پاکستان ، وزارت صنعت و پیداوار ، کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان اور دیگر صنعتی سٹیک ہولڈرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکا نے کاسٹ آڈٹ کے نظام کو بین الاقوامی معیار کے ساتھ ہم آہنگ کرنے اور اسے نگرانی اور پالیسی کے مقاصد کے لیے مزید متعلقہ بنانے پر تفصیلی غور و خوض کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایس ای سی پی ا ف پاکستان کاسٹ ا ڈٹ
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔