مولانا عبدالخبیر آزاد کی ویٹی کن سٹی میں پوپ لیو سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
تصویر:سوشل میڈیا
چیئرمین مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان مولانا سید عبدالخبیر آزاد نے ویٹی کن سٹی میں پوپ لیو سے ملاقات کی، جس میں دنیا میں امن، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ، پیغامِ پاکستان کے تسلسل اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر دنیا بھر سے علماء، مذہبی اسکالرز اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
مولانا عبدالخبیر آزاد نے اپنے خطاب میں پُرتشدد رویوں کے خاتمے اور احترامِ انسانیت کو عام کرنے پر زور دیا۔
پوپ لیو نے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو انٹرفیتھ ہارمنی (بین المذاہب ہم آہنگی) کی آج پہلے سے زیادہ ضرورت ہے، انہوں نے بین المذاہب مکالمے کو مزید فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
مولانا عبدالخبیر آزاد نے اس موقع پر پوپ لیو کو پاکستان کا عظیم قومی بیانیہ پیغامِ پاکستان پیش کیا، جسے پاپ لیو نے سراہا اور خوش آئند قرار دیا۔
مولانا عبدالخبیر آزاد نے پوپ لیو کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مولانا عبدالخبیر آزاد عبدالخبیر آزاد نے پوپ لیو
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔