پنجاب میں ڈرون پولیسنگ کا آغاز، غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے لیے 14 سال قید — مریم نواز کا بڑا فیصلہ!
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
پنجاب حکومت نے صوبے میں ڈرون پولیسنگ اور آرمز ریگولیشن کے نئے قوانین متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت امن وامان سے متعلق اجلاس میں صوبے میں لائسنس یافتہ اسلحے کی ازسرِ نو جانچ اور اسکروٹنی کا بھی فیصلہ کیا گیا۔دوران اجلاس وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ غیر قانونی اسلحہ 15 دن کے اندر اندر واپس لیا جائے گا، پنجاب میں وفاقی اسلحہ لائسنس رکھنے والوں کی بھی جانچ کی جائے گی۔مزید برآں صرف پولیس اہلکار اور رجسٹرڈ سکیورٹی گارڈز کو اسلحہ رکھنے کی اجازت ہوگی، لائسنس یافتہ اسلحہ کے مالک اور جاری کرنے والے کی تصدیق کی جائے گی، پنجاب میں وفاقی اسلحہ لائسنس رکھنے والوں کی بھی جانچ کی جائے گی۔اجلاس میں طے پایا کہ نجی سکیورٹی کمپنیوں کو رجسٹر کیا جائے گا اور ان کے لیے قواعد بنائے جائیں گے، نجی سکیورٹی گارڈز کو پنجاب پولیس ہیلپ لائن 15 سے منسلک کیا جائے گا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کرائم سین پر جلد رسائی کے لیے ڈرون پولیسنگ کا پائلٹ پراجیکٹ لانچ کیا جائے گا، ڈرون پولیسنگ پراجیکٹ فوری، منظم اور ڈیجیٹل ردعمل یقینی بنائے گا، پنجاب کے 14 اہم داخلی و خارجی مقامات پر جدید اسلحہ اسکینرز نصب کیے جائیں گے۔وزیر اعلیٰ پنجاب کو بتایا گیا کہ سالانہ اسلحہ لائسنس فیس میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے گا جبکہ اسلحہ اسمگلنگ پر 14 سال کی سزا ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ڈرون پولیسنگ کیا جائے گا
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔