پنجاب میں غیر قانونی اسلحہ کی خرید و فروخت کے خلاف کارروائی، 28 ڈیلرز کے لائسنس منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: پنجاب میں غیر قانونی اسلحہ کی خرید و فروخت کے خلاف محکمہ داخلہ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 28 اسلحہ ڈیلرز کے لائسنس منسوخ کر دیے ہیں, جعلی ڈیلرز کی دکانوں کو سیل کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق محکمہ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ صوبے بھر میں غیر قانونی اسلحہ کی خرید و فروخت پر زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں تمام اسلحہ ڈیلرز کی ویریفکیشن کا عمل جاری ہے۔پنجاب میں اب تک 511 ڈیلرز نے اپنے لائسنس کی توثیق کے لیے درخواستیں جمع کرائی ہیں، جن میں سے 393 ڈیلرز کے لائسنسز کی مکمل تصدیق کر کے گرین سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔
خریداروں کیلئے بڑی خوشخبری، پاکستان میں سستے سولر پینلزتیار
محکمہ داخلہ کے مطابق 90 اسلحہ ڈیلرز کے کاغذات کی اسکروٹنی جاری ہے، جن میں سے 44 کیسز کی سماعت مکمل ہو چکی جبکہ باقی 46 کی سماعت جلد مکمل کی جائے گی۔ تمام کیسز کی جانچ شفاف اور منصفانہ طریقہ کار کے تحت کی جا رہی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ محکمہ داخلہ نے صوبے بھر میں اسلحہ ڈیلرز کی ڈیجیٹل رجسٹریشن کا عمل تیز کر دیا ہے اور غیر قانونی اسلحے کی نشاندہی و بازیابی کے لیے متعلقہ ادارے متحرک ہیں۔
لاہور دنیاکے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا
اس کے علاوہ، محکمہ داخلہ کی ہدایت پر تمام اضلاع میں اسلحہ ڈیلرز کی باقاعدہ انسپکشن بھی جاری ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے اسلحہ لائسنسز کی تفصیلات بھی جاری کی ہیں جن کے مطابق صوبے میں 10 لاکھ 12 ہزار 454 افراد کے پاس انفرادی اسلحہ لائسنس موجود ہیں، جبکہ سکیورٹی کمپنیوں کے لیے 37 ہزار 918 اور مختلف اداروں کے نام پر 42 ہزار 272 لائسنس رجسٹرڈ ہیں۔اس طرح پنجاب میں مجموعی طور پر اسلحہ لائسنسز کی تعداد 10 لاکھ 92 ہزار 644 ہے۔
برقعہ پوش خواتین قیمتی انگوٹھیوں کا باکس چوری کر کے فرار
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔