پاکستان نے بھارت سے بہہ کر آئے 300 جانور واپس کردیے
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251025-08-11
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستانی عوام نے انسانیت اور بھائی چارے کی اعلیٰ مثال قائم کردی، بھارت سے سیلاب میں بہہ کر آنے والے جانوروں کو امانت سمجھ کر واپس سرحدر پار بھیج دیا۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی پنجاب کے ضلع امرتسر کے سرحدی گاؤں ’’سنگھوکے‘‘ میں عوام نے 300 جانور واپس کرنے پر پاکستان کا بھرپور شکریہ ادا کیا۔سرحدی علاقے کے مقیم سکھ شہری کا واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’’سنگھوکے‘‘ سمیت متعدد سرحدی گاؤں سیلاب کی زد میں آئے جانوروں کو نکالنے کا وقت نہیں تھا، سرحدی علاقوں سے جانور بھینسیں اور گائیں سیلاب میں بہہ کر پاکستان چلے گئے تاہم پاکستانی عوام نے دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جانور سرحد پار واپس بھیج دیے۔سکھ شہری نے بتایا کہ پاکستان سے کم از کم 300جانور سرحد پار بھارتی پنجاب میں واپس آچکے ہیں، سرحد کے دونوں اطراف پنجاب میں بھی ہمارے لوگ بستے ہیں، سکھ برادری اور پاکستان کے رشتے کی جڑیں تاریخ، مذہب، زبان، کلچر اور محبت میں پیوست ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔