ایپل کا آئی فون ائیر فلاپ؟ کمپنی کا پیداوار 80 فیصد کم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اپنے نئے ماڈل آئی فون ائیر کی مانگ توقعات سے کم ہونے پر آئندہ برس پیداوار کم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
رواں برس ستمبر میں ایپل نے ایک پتلے ڈیزائن کے ساتھ آئی فون ائیر لانچ کیا تھا، محض 5.6 ملی میٹر موٹے آئی فون ائیر کو ایپل کا اب تک کا سب سے سلم یعنی پتلا ماڈل قرار دیا گیا ہے۔
آئی فون ائیر نے ابتدائی طور پر تو کافی توجہ حاصل کی لیکن پہلہ سہ ماہی اس ماڈل کی مانگ کم ہونے کی وجہ سے کمپنی ماڈل کی پیداوار کم کرنے کا فیصلہ کررہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایپل کے تجزیہ کار منگ چی کیو نے انکشاف کیا ہے کہ ‘ آئی فون ائیر کی مانگ میں ریکارڈ کمی کے بعد ایپل انتظامیہ آئندہ برس آئی فون ائیر کی پیداوار کم کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے‘ ۔
تجزیہ کار کے مطابق کمپنی 2026 کی پہلی سہ ماہی تک آئی فون ائیر کی تیاری 80 فیصد کمی کر رہی ہے۔
دوسری جانب آئی فون ائیر کے کئی پرزے جات ایسے ہیں جن کی تیاری یا فراہمی زیادہ وقت طلب ہے لہٰذا کمپنی ان پرزوں کی فراہمی کا سلسلہ بھی 2025 کے آخر تک بند کردے گی‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ئی فون ائیر کی ا ئی فون ائیر آئی فون ائیر کم کرنے کا
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔