10فیصد طلبہ کو مفت تعلیم نہ دینے والے اداروں کیخلاف کارروائی کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نواب شاہ( نمائندہ جسارت)سکھر ہائی کورٹ بینچ کے فیصلے کے بعد ضلع شہید بے نظیر آباد میں نجی تعلیمی اداروں کے لیے خصوصی آڈٹ ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ یہ اقدام آئینی درخواست نمبر 1592/2025 میں عدالت عالیہ کے جاری کردہ احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے، جس میں عدالت نے نجی اسکولوں کو 10 فیصد طلبہ کو مفت تعلیم دینے کا پابند قرار دیا تھا۔محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق، سکھر ہائی کورٹ کے فیصلے پر فوری عمل درآمد کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکولز ایجوکیشن، شہید بے نظیر آباد کی جانب سے متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو ضلع کے تمام رجسٹرڈ نجی اسکولوں کا مرحلہ وار آڈٹ کریں گی۔ ان ٹیموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسکولوں کی فیس اسٹرکچر، مالی ریکارڈ، داخلے کے اعداد و شمار، اور مفت تعلیم فراہم کرنے کی پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ لیں۔ذرائع نے بتایا کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے والے اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس ضمن میں تمام نجی اسکولوں کو باضابطہ طور پر انٹیمیشن لیٹرز (اطلاع نامے) جاری کر دیے گئے ہیں جن میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی ادارے نے 10 فیصد طلبہ کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے قانون کی خلاف ورزی کی تو اس کا نتیجہ سنگین ہوگا۔ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جاری ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ جو ادارے عدالتی حکم پر عمل نہیں کریں گے، ان کے خلاف سکھر ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق کارروائی کی جائے گی، جس میں رجسٹریشن منسوخی، اسکول سیل کرنا، اور مزید قانونی کارروائی شامل ہو سکتی ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ ہر اسکول کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی انتظامیہ، تدریسی عملے، اور مالیاتی امور کی درست معلومات پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے ذریعے ڈائریکٹوریٹ تک پہنچائے۔ اگر کسی ادارے نے غلط یا ادھورا ڈیٹا فراہم کیا، تو اسے بھی عدالتی حکم عدولی تصور کیا جائے گا۔عدالتی فیصلے میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ تعلیم کاروبار نہیں بلکہ ایک سماجی خدمت ہے، اور کوئی بھی نجی ادارہ اس خدمت کو تجارتی بنیادوں پر والدین اور طلبہ کے لیے بوجھ نہیں بنا سکتا۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ مستحق طلبہ کو تعلیم کے دروازے بند کرنا آئین کے آرٹیکل 25-A کی خلاف ورزی ہے، جو ہر بچے کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے۔ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز شہید بے نظیر آباد نے تمام نجی اداروں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے اسکولوں کی تفصیلات، فیس اسٹرکچر، اور مفت تعلیم پانے والے طلبہ کے ریکارڈ ڈائریکٹوریٹ میں جمع کرائیں، تاکہ ان کی رجسٹریشن برقرار رہ سکے۔ بصورت دیگر، قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے ان کی رجسٹریشن منسوخ کر دی جائے گی اور انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے دوبارہ سکھر ہائی کورٹ سے رجوع کرنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سکھر ہائی کورٹ مفت تعلیم گیا ہے کہ طلبہ کو کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ