data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نواب شاہ( نمائندہ جسارت)سکھر ہائی کورٹ بینچ کے فیصلے کے بعد ضلع شہید بے نظیر آباد میں نجی تعلیمی اداروں کے لیے خصوصی آڈٹ ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ یہ اقدام آئینی درخواست نمبر 1592/2025 میں عدالت عالیہ کے جاری کردہ احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے، جس میں عدالت نے نجی اسکولوں کو 10 فیصد طلبہ کو مفت تعلیم دینے کا پابند قرار دیا تھا۔محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق، سکھر ہائی کورٹ کے فیصلے پر فوری عمل درآمد کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکولز ایجوکیشن، شہید بے نظیر آباد کی جانب سے متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو ضلع کے تمام رجسٹرڈ نجی اسکولوں کا مرحلہ وار آڈٹ کریں گی۔ ان ٹیموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسکولوں کی فیس اسٹرکچر، مالی ریکارڈ، داخلے کے اعداد و شمار، اور مفت تعلیم فراہم کرنے کی پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ لیں۔ذرائع نے بتایا کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے والے اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس ضمن میں تمام نجی اسکولوں کو باضابطہ طور پر انٹیمیشن لیٹرز (اطلاع نامے) جاری کر دیے گئے ہیں جن میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی ادارے نے 10 فیصد طلبہ کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے قانون کی خلاف ورزی کی تو اس کا نتیجہ سنگین ہوگا۔ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جاری ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ جو ادارے عدالتی حکم پر عمل نہیں کریں گے، ان کے خلاف سکھر ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق کارروائی کی جائے گی، جس میں رجسٹریشن منسوخی، اسکول سیل کرنا، اور مزید قانونی کارروائی شامل ہو سکتی ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ ہر اسکول کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی انتظامیہ، تدریسی عملے، اور مالیاتی امور کی درست معلومات پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے ذریعے ڈائریکٹوریٹ تک پہنچائے۔ اگر کسی ادارے نے غلط یا ادھورا ڈیٹا فراہم کیا، تو اسے بھی عدالتی حکم عدولی تصور کیا جائے گا۔عدالتی فیصلے میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ تعلیم کاروبار نہیں بلکہ ایک سماجی خدمت ہے، اور کوئی بھی نجی ادارہ اس خدمت کو تجارتی بنیادوں پر والدین اور طلبہ کے لیے بوجھ نہیں بنا سکتا۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ مستحق طلبہ کو تعلیم کے دروازے بند کرنا آئین کے آرٹیکل 25-A کی خلاف ورزی ہے، جو ہر بچے کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے۔ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز شہید بے نظیر آباد نے تمام نجی اداروں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے اسکولوں کی تفصیلات، فیس اسٹرکچر، اور مفت تعلیم پانے والے طلبہ کے ریکارڈ ڈائریکٹوریٹ میں جمع کرائیں، تاکہ ان کی رجسٹریشن برقرار رہ سکے۔ بصورت دیگر، قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے ان کی رجسٹریشن منسوخ کر دی جائے گی اور انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے دوبارہ سکھر ہائی کورٹ سے رجوع کرنا ہوگا۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سکھر ہائی کورٹ مفت تعلیم گیا ہے کہ طلبہ کو کے لیے

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ