data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے اہم اجلاس میں ملکی و بین الاقوامی تجارت سے متعلق بڑے فیصلے کرلیے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ای سی سی نے سونے کی بین الاقوامی تجارت بحال کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں نہ صرف قیمتی دھاتوں اور زیورات کی درآمد و برآمد کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا فیصلہ کیا گیا بلکہ مختلف وزارتوں کے لیے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی گئی۔

اجلاس میں وزارتِ تجارت کی سفارش پر فیصلہ کیا گیا کہ سونا، قیمتی دھاتیں اور زیورات کی تجارت ایک خودکار اور شفاف فریم ورک کے تحت دوبارہ شروع کی جائے گی تاکہ غیرقانونی لین دین اور اسمگلنگ کے امکانات کو ختم کیا جا سکے۔

اس پالیسی کے تحت ’’اینٹرسٹمنٹ‘‘ اور ’’کنسائنمنٹ‘‘ اسکیموں کے ذریعے زیورات کی برآمد کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے گا، جس کی توثیق وفاقی کابینہ کرے گی۔

اجلاس کے دوران وزارتِ تجارت نے گاڑیوں کی درآمد سے متعلق نئی پالیسی کی تجاویز بھی پیش کیں، جن کے مطابق صرف وہی گاڑیاں درآمد کی جائیں جن کا خریدار اسی ملک میں مقیم ہو جہاں سے گاڑی بھیجی جا رہی ہو, تاہم ایف بی آر نے اس تجویز پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس سے زیادہ تر پاکستانیوں کے لیے گاڑیاں درآمد کرنا مشکل ہو جائے گا، کیونکہ وہ بائیں ہاتھ سے چلنے والی گاڑیوں والے ممالک میں مقیم ہیں۔

بعد ازاں ای سی سی نے اس معاملے پر مزید مشاورت کی ہدایت دی تاکہ حتمی پالیسی دوبارہ پیش کی جا سکے۔

اجلاس میں وزارتِ صنعت نے ’’تحفہ‘‘ اور ’’ذاتی سامان‘‘ اسکیموں کے خاتمے جب کہ ’’رہائش کی منتقلی‘‘ اسکیم برقرار رکھنے کی تجویز پیش کی،  تاہم وزارتِ تجارت نے تینوں اسکیموں کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت شرائط کی سفارش کی، جن میں کم از کم تین سال بیرون ملک قیام، ایک سال تک گاڑی کی عدم منتقلی اور بیرون ملک رجسٹریشن کی لازمی شرط شامل تھی۔

علاوہ ازیں اجلاس میں وزارتِ دفاعی پیداوار، وزارتِ داخلہ اور الیکشن کمیشن سمیت متعدد اداروں کے لیے مجموعی طور پر اربوں روپے کی ضمنی گرانٹس کی منظوری دی گئی۔ ان میں پاکستان نیوی کے میرین سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے قیام، رینجرز کے ہیلی کاپٹر کی مرمت، الیکشن کمیشن کے بلدیاتی انتخابات کے اخراجات اور پاکستان منٹ کالونی میں بجلی میٹرز کی تنصیب کے لیے فنڈز شامل ہیں۔

اجلاس کے دوران وزارتِ منصوبہ بندی کے چیف اکانومسٹ ڈاکٹر امتیاز احمد نے بتایا کہ حالیہ سیلابوں سے زرعی پیداوار اور مویشیوں کے نقصانات کے باعث ستمبر 2025 میں مہنگائی 5.

6 فیصد تک جا پہنچی۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تمام متعلقہ وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی کہ وہ عوام کی خریداری کی قوت کو برقرار رکھنے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام کے لیے فوری اقدامات کریں۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی منظوری اجلاس میں کے لیے

پڑھیں:

سوناہزاروں روپے سستا، ایک دن کی بڑی کمی نے مارکیٹ ہلا دی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے اثرات پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے جہاں جمعہ کے روز سونے اور چاندی دونوں کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔

آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت میں 4 ہزار 600 روپے کی نمایاں کمی کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 27 ہزار 436 روپے مقرر ہوگئی۔

اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 3 ہزار 944 روپے کم ہو کر 3 لاکھ 66 ہزار 457 روپے تک آگئی جس سے گزشتہ چند روز سے جاری اضافے کا رجحان وقتی طور پر رک گیا۔

دوسری جانب فی تولہ چاندی 61 روپے سستی ہونے کے بعد 6 ہزار 309 روپے میں فروخت ہونے لگی جبکہ عالمی منڈی میں بھی قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46 ڈالر کمی کے بعد 4 ہزار 50 ڈالر پر آگئی۔ ماہرین کے مطابق امریکی ڈالر کی مضبوطی، عالمی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط حکمت عملی اختیار کیے جانے کے باعث سونے کی قیمتیں دباؤ کا شکار رہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے باعث مقامی صرافہ بازار میں بھی سونا سستا ہوا ہے۔ اگر بین الاقوامی سطح پر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں مقامی مارکیٹ میں مزید کمی کا امکان بھی موجود ہے تاہم ڈالر کی قدر اور عالمی معاشی صورتحال قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گی۔

مزید پڑھیں۔جوز بٹلر نے ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

متعلقہ مضامین

  • عالمی و مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
  • سوناہزاروں روپے سستا، ایک دن کی بڑی کمی نے مارکیٹ ہلا دی
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت