کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 8 میں مقیم معمر جوڑے کے گھر میں کام کرنے والا گھریلو ملازم 45 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے کے باوجود کروڑوں روپے کے اثاثوں کا مالک نکلا۔

پولیس کے مطابق معمر جوڑے نے 8 برس قبل واجد علی نامی ملازم کو اپنے گھر میں ملازمت پر رکھا تھا۔ ملزم نے بزرگ جوڑے کا اعتماد حاصل کرکے بینک اکاؤنٹس اور لاکرز سمیت تمام مالی امور تک رسائی حاصل کر لی۔

یہ بھی پڑھیے: لمحوں میں لاکھوں کا سونا چوری، کیمرہ دیکھتا ہی رہ گیا

4 سال قبل شوہر کے انتقال کے بعد ملزم نے اکیلی رہ جانے والی خاتون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چوری شروع کر دی۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ واجد علی نے چوری کی رقم سے کراچی کے پوش علاقے میں فلیٹ، ہری پور اور اسلام آباد میں پلاٹس خریدے۔

ملزم نے اسی رقم سے ایک مسافر وین بھی خریدی جو اسلام آباد سے ہری پور کے درمیان چل رہی ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کے 4 بینک اکاؤنٹس سے ایک کروڑ 86 لاکھ روپے کی ٹرانزکشنز کے ثبوت ملے ہیں جبکہ اس کی نشاندہی پر سوا کروڑ روپے مالیت کا سونا بھی برآمد کیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق معمر خاتون کو بیرون ملک مقیم بیٹا اور بیٹی ماہانہ بھاری رقم بھیجتے تھے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملازم نے مسلسل چوریاں کیں۔ تھانہ ساحل پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد پولیس کی کارروائی،کروڑوں روپے مالیت کی چوری شدہ گاڑیاں برآمد

پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران واجد علی نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کئی سالوں سے گھر سے رقم، سونا، ڈالر اور دیگر قیمتی اشیاء چوری کرتا رہا ہے۔ ملزم نے اے ٹی ایم کارڈ اور چیک بُک کے ذریعے بھی بھاری رقوم منتقل کیں۔

برآمد شدہ سامان میں 5، 5 تولے کے 2 سونے کے بسکٹ، 2، 2 تولے کے 2 بسکٹ، ایک تولے کے 7 بسکٹ اور نقد رقم 2 لاکھ 27 ہزار روپے شامل ہیں۔ پولیس نے ملزم کے بینک اکاؤنٹس بلاک کرانے اور مزید ٹرانزکشنز کی تفصیلات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

چوری رقم سونا کراچی گھریلو ملازم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چوری کراچی گھریلو ملازم کے مطابق

پڑھیں:

مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

ویب ڈیسک :پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس نےآئندہ مالی سال کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار  روپے مقرر کرنے کی سفارش کردی۔

  اس حوالے سے پائیڈ نے شواہد پر مبنی فریم ورک تجویز کردیا جس کے تحت  مالی سال 2026-27 کے لیے قومی سطح پر کم از کم اجرت 45000 روپے ماہانہ مقرر  کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

 پائیڈ نے موجودہ کم از کم اجرت 40000 روپے کے مقابلے آئندہ مالی سال کیلئے  12.5 فیصد اضافہ  تجویز کیا ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 پائیڈ کی رپورٹ کے مطابق کم از کم اجرت کی پالیسی اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود معاملہ نہیں رہی بلکہ یہ گھریلو قوتِ خرید، غربت کے خدشات ، غیر رسمی روزگار، مقامی طلب، پیداواری ترغیبات اور مجموعی سماجی استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ 

 یہ بھی پڑھیں:نئی کاواساکی موٹرسائیکل نےدھوم مچا دی

 رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026 کے جولائی تا اپریل عرصے میں اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی اور اپریل 2026 میں سال بہ سال افراطِ زر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
 

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

متعلقہ مضامین

  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق