کراچی: 45 ہزار روپے پر کام کرنے والا گھریلو ملازم کروڑوں روپے کے اثاثوں کا مالک نکلا مگر کیسے؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 8 میں مقیم معمر جوڑے کے گھر میں کام کرنے والا گھریلو ملازم 45 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے کے باوجود کروڑوں روپے کے اثاثوں کا مالک نکلا۔
پولیس کے مطابق معمر جوڑے نے 8 برس قبل واجد علی نامی ملازم کو اپنے گھر میں ملازمت پر رکھا تھا۔ ملزم نے بزرگ جوڑے کا اعتماد حاصل کرکے بینک اکاؤنٹس اور لاکرز سمیت تمام مالی امور تک رسائی حاصل کر لی۔
یہ بھی پڑھیے: لمحوں میں لاکھوں کا سونا چوری، کیمرہ دیکھتا ہی رہ گیا
4 سال قبل شوہر کے انتقال کے بعد ملزم نے اکیلی رہ جانے والی خاتون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چوری شروع کر دی۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ واجد علی نے چوری کی رقم سے کراچی کے پوش علاقے میں فلیٹ، ہری پور اور اسلام آباد میں پلاٹس خریدے۔
ملزم نے اسی رقم سے ایک مسافر وین بھی خریدی جو اسلام آباد سے ہری پور کے درمیان چل رہی ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کے 4 بینک اکاؤنٹس سے ایک کروڑ 86 لاکھ روپے کی ٹرانزکشنز کے ثبوت ملے ہیں جبکہ اس کی نشاندہی پر سوا کروڑ روپے مالیت کا سونا بھی برآمد کیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق معمر خاتون کو بیرون ملک مقیم بیٹا اور بیٹی ماہانہ بھاری رقم بھیجتے تھے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملازم نے مسلسل چوریاں کیں۔ تھانہ ساحل پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد پولیس کی کارروائی،کروڑوں روپے مالیت کی چوری شدہ گاڑیاں برآمد
پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران واجد علی نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کئی سالوں سے گھر سے رقم، سونا، ڈالر اور دیگر قیمتی اشیاء چوری کرتا رہا ہے۔ ملزم نے اے ٹی ایم کارڈ اور چیک بُک کے ذریعے بھی بھاری رقوم منتقل کیں۔
برآمد شدہ سامان میں 5، 5 تولے کے 2 سونے کے بسکٹ، 2، 2 تولے کے 2 بسکٹ، ایک تولے کے 7 بسکٹ اور نقد رقم 2 لاکھ 27 ہزار روپے شامل ہیں۔ پولیس نے ملزم کے بینک اکاؤنٹس بلاک کرانے اور مزید ٹرانزکشنز کی تفصیلات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چوری رقم سونا کراچی گھریلو ملازم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چوری کراچی گھریلو ملازم کے مطابق
پڑھیں:
پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔
موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔