کراچی میں ایک اور کروڑ پتی گھریلو ملازم کا انکشاف، چوریوں کی شکایت پر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: شہر قائد کے پوش علاقے ڈیفنس میں ایک اور حیران کن اور چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک گھریلو ملازم واجد علی کو پولیس نے گرفتار کر لیا، جو اپنی مالکن کے گھر سے طویل عرصے سے رقم، سونا اور دیگر قیمتی اشیا چُرا کر کروڑ پتی بن چکا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم گزشتہ 8 سال سے خاتون کے گھر میں ملازمت کر رہا تھا اور اسی دوران اس نے موقع پا کر بھاری مالیت کا سامان چرا لیا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کی شکایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے واجد علی کو حراست میں لیا گیا ہے۔ گرفتاری کے بعد تفتیش کے دوران ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور بتایا کہ وہ گزشتہ کئی سالوں سے وقتاً فوقتاً گھر کی الماری سے نقد رقم، سونا، ڈالر اور دیگر قیمتی اشیا چُراتا رہا۔ اس کے علاوہ وہ چیک بُک اور اے ٹی ایم کے ذریعے بھی رقوم منتقل کرتا رہا، جن کی مجموعی مالیت کروڑوں روپے بتائی جا رہی ہے۔
پولیس نے ملزم کے انکشاف پر کارروائی کرتے ہوئے اس کے پاس سے 5،5 تولے کے دو بسکٹ، 2،2 تولے کے دو بسکٹ، ایک، ایک تولے کے سات بسکٹ اور دو لاکھ 27 ہزار روپے نقدی برآمد کرلی۔
مزید تفتیش میں واجد علی نے انکشاف کیا کہ چوری کی گئی رقوم سے اس نے مختلف مقامات پر جائیدادیں اور گاڑیاں خریدی ہیں جب کہ بینک اکاؤنٹس کے ذریعے بھاری رقم دوسرے اکاؤنٹس میں منتقل بھی کی۔
پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات انویسٹی گیشن پولیس کے سپرد کر دی گئی ہیں، جو اب اس کی جائیداد، بینک اکاؤنٹس اور دیگر مالی تفصیلات اکٹھی کر رہی ہے۔
ڈیفنس کے علاقے میں اس نوعیت کی وارداتوں کے بعد شہریوں کو اپنے گھروں میں ملازمین کی مکمل چھان بین اور نگرانی کی تاکید کی جا رہی ہے تاکہ ایسے جرائم کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔